
میری والدہ کا انتقال ہواہے، اور ورثاء میں چار بیٹےاور دو بیٹیاں ہیں۔ میرے والد مرحوم (مرحومہ کا شوہر) اور والدہ مرحومہ کے والدین کا انتقال پہلے ہوگیاہے۔اور والدہ مرحومہ نے زندگی میں یہ بھی کہا تھا کہ ”میرے مرنے کے بعد میری جمع پونجی میرے ایصال ثواب میں لگادینا“۔ اور ترکہ میں کچھ سونا اور نقدی ہے۔
1- کیا والدہ مرحومہ کے ترکہ کو ورثاء میں تقسیم کرنا ہوگا یا پھر وصیت پر عمل کرنا درست ہے؟جب کہ بعض ورثاء مالی اعتبار سے کمزور بھی ہیں۔
2- نیز یہ کہ ترکہ کے مال کا کیا حکم ہے ؟ کیا ورثاء میں تقسیم کرنا ضروری ہے یا کسی مصرف میں لگاناچاہیے؟
3- اگر ترکہ ورثاء میں تقسیم کرنا ہے تو مذکورہ ورثاء میں تقسیم کرنا مطلوب ہے۔
1- صورت مسئولہ میں سائل کی والدہ مرحومہ کا یہ کہنا کہ ”میرے مرنے کے بعد میرے جمع پونجی میرے ایصال ثواب میں لگادینا“، یہ وصیت ہےجو کل مال کے تہائی سے ادا کرنا ضروری ہےیعنی 33.333 فیصد مرحومہ کے ترکہ سے ادا کرنالازمی ہے، کسی غریب یا مسجد مدرسے میں خرچ کرنا چاہیے۔ اور باقی ماندہ مال کو ورثاء کے درمیان شرعی ضابطہ کے مطابق تقسیم کرنا ضروی ہے۔
2- نیز یہ کہ مرحومہ کے ترکہ میں سب ورثاء کا شرعی حق ہے ، جب تک ہر وارث اپنا حق وصول نہ کرے اس وقت تک اس کا حق باقی رہتا ہے،اور یہ حق کسی وارث مطالبہ نہ کرنے سے یا دستبرداری سے بھی ساقط نہیں ہوتا ۔ نیز یہ کہ کسی کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، استعمال کرنا گناہ ہےحرام ہے۔ لہٰذا مرحومہ کا ترکہ ان کے ورثاء میں تقسیم کرنا ضروری ہے، تقسیم سے پہلے نہ کوئی وارث دوسروں کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف کرسکتاہے اور نہ ہی کسی مصرف میں لگا سکتاہے۔
3- مرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات کی ادائیگی کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کی ادائیگی کے بعد،اور مرحوم کی وصیت ترکہ کی تہائی سے ادائیگی کے بعد ، کل ترکہ منقولہ و غیرمنقولہ کو10 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصے مرحومہ کے ہر بیٹے کو ، اور ایک ،ایک ہر بیٹی کو حصےملےگا۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت( والدہ مرحومہ ) : 10
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 2 | 1 | 1 |
فیصد کے اعتبارسے 33.333 فیصدوصیت کی مد میں صرف کرنا ہوگا، اور 13.333 فیصدمرحومہ کے ہرایک بیٹے کو، اور6.667 فیصد ہر ایک بیٹی کو ملےگا۔
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامديةمیں ہے :
" ( سئل ) في أحد الورثة إذا أشهد عليه قبل قسمة التركة المشتملة على أعيان معلومة أنه ترك حقه من الإرث وأسقطه وأبرأ ذمة بقية الورثة منها ويريد الآن مطالبة حقه من الإرث فهل له ذلك؟ ( الجواب): الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط وقد أفتى به العلامة الرملي كما هو محرر في فتاواه من الإقرار نقلا عن الفصولين وغيره فراجعه إن شئت. "
( كتاب الدعوى، ج: 2، ص: 26، ط: دارالمعرفة )
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144801102413
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن