
کیا موسیقی سننا گناہِ کبیرہ ہے؟ اور گناہِ کبیرہ کون کون سے ہیں؟
موسیقی سننا گناہِ کبیرہ ہے، اور اس کے بارے میں قرآن و سنت میں بہت سخت وعیدیں ذکر کی گئی ہیں۔ قرآن کریم میں باری تعالی نے ارشاد فرمایا:
﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ ﴾ [لقمان: 6]
ترجمہ: اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ان باتوں کے خریدار بنتے ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی ہیں، تاکہ اللہ کی یاد سے بے سمجھے گم راہ کرے اور اس کی ہنسی اڑائے، ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب اس آیت کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ "لَهْوَ الْحَدِيثِ" سے مراد گانا ہے۔ یہی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت جابر رضی اللہ عنہم، حضرت عکرمہ، سعید بن جبیر، مجاہد، مکحول، حسن بصری اور عمرو بن شعیب رحمہم اللہ جیسے جلیل القدر حضرات سے بھی منقول ہے۔
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "گانا دل میں نفاق اگاتاہے جیسے کہ پانی کھیتی کو اگاتی ہے" ۔(مشکاۃ المصابیح)۔
جس گناہ پر مجرم کے لیے رحمت سے دوری (لعنت) کا ذکر ہو یا اس پر سخت وعید سنائی گئی ہو یا اس پر عذاب، سزا یا حد کا ذکر ہو تو وہ کبیرہ گناہوں میں شامل ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی سننا بھی گناہ کبیرہ میں سے ہے۔
گناہ کبیرہ سے متعلق مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں:
تفسیر ابن کثیر میں ہے:
"روى ابن جرير : حدثني يونس بن عبد الأعلى قال: أخبرنا ابن وهب، أخبرني يزيد بن يونس عن أبي صخر عن أبي معاوية البجلي عن سعيد بن جبير عن أبي الصهباء البكري أنه سمع عبد الله بن مسعود وهو يسأل عن هذه الآية ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل اللهفقال عبد الله بن مسعود: الغناء والله الذي لا إله إلا هو، يرددها ثلاث مرات، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا صفوان بن عيسى، أخبرنا حميد الخراط عن عمار عن سعيد بن جبير، عن أبي الصهباء أنه سأل ابن مسعود عن قول الله ومن الناس من يشتري لهو الحديث قال: الغناء ، و كذا قال ابن عباس وجابر وعكرمة وسعيد بن جبير ومجاهد ومكحول وعمرو بن شعيب وعلي بن بذيمة.
و قال الحسن البصري: نزلت هذه الآية ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم في الغناء والمزامير."
(سورۃ لقمان: 6، ج: 6، ص: 296، ط: دار الكتب العلمية)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع» ."
(كتاب الآداب، باب البيان والشعر، ج: 3، ص: 1355، الرقم: 4310، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
مزید تفصیل کے لییے " اسلام اور موسیقی" تالیف مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کا مطالعہ کیا جائے۔
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708100535
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن