
کئی سال قبل مسلمانوں نے کینیڈا میں ایک چرچ خریدا اور اسے مسجد میں تبدیل کر دیا، اسی کے ساتھ انہوں نے مسجد سے متصل چار اضافی پلاٹ بھی خریدے، تاکہ مستقبل میں یہاں ایک بڑی مسجد تعمیر کی جا سکے، یہ تمام کام مسلمانوں کے چندے سے ممکن ہوا، اب مسجد کے پاس ایک بڑی زمین ہے، اسی زمین پر مسجد بھی موجود ہے، جبکہ باقی زمین فی الحال میدان اور پارکنگ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے،یہ ساری زمین ایک سرمایہ کار کو بیچ دی گئی ہے، اور معاہدے کے تحت طے پایا ہے کہ اس زمین پر 38 منزلہ عمارت بنائی جائے گی، جس میں فلیٹس ہوں گے،یہ فلیٹس عوامی فروخت کے لیے ہوں گے اور ان میں غیر مسلم بھی خریداری کر سکیں گے، اس کے علاوہ زمین کے کچھ حصے پر مسلمانوں کے لیے مسجد بھی بنائی جائے گی، اور مسجد کو ان فلیٹس میں سے چند فلیٹس فراہم کیے جائیں گے تاکہ مسجد کے ماہانہ اخراجات پورے کیے جا سکیں،مسجد کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ زمین کے جس حصے پر ابھی مسجد کی عمارت ہے، اس حصے پر مسجد ہی بنے گی، البتہ جو باقی زمین ہے وہاں فلیٹس بنائے جائیں گے، یہ تمام تعمیرات بینک کے سودی قرضے سے کی جائیں گی، کمیٹی اس بات پر خوش ہے کہ انہیں کوئی پیسہ خرچ نہیں کرنا پڑے گا، اور انہیں مفت میں ایک مسجد اور رہائشی فلیٹس مل جائیں گے۔
میرا آپ سے سوال ہے:1۔کیا مسلمانوں کے پیسوں سے خریدی گئی مسجد کی زمین کا اس طرح بیچنا جائز ہے؟
2۔کیا یہ زمین وقف کے حکم میں آتی ہے اور وقف زمین کا اسلام میں کیا حکم ہے؟
3۔جو زمین مسجد کے لیے خریدی جائے، اگرچہ اس پر مسجد کی عمارت نہ ہو، کیا اس پر اس قسم کے فلیٹس بنا کر بیچے جا سکتے ہیں؟
2۔1۔واضح رہےکہ مسلمانوں سے مسجد کےلیے زمین خریدنے کےنام پر لیے گئے چندے سے جو جگہ خریدی جاتی ہے، وہ مسجد کےلیے وقف شمار ہوتی ہے،جسےمسجد کے علاوہ کسی اور مقصد کےلیے استعمال کرنا،یا فروخت کرنا،یاکسی کو تحفہ میں دینا جائز نہیں ہوتا،مذکورہ جگہ تاقیامت مسجد کےلیے مختص ہوتی ہے،لہذا ایسی زمین فروخت کرنے کی صورت میں سودا منعقد ہی نہیں ہوتا،پس مسئولہ صورت میں مسجد کمیٹی کو فوری طورپر مذکورہ سودا فسخ کرناشرعاًضروری ہوگا۔
3۔جو زمین مسجد کےلیے خریدی جائے اگر چہ اس پر مسجد کی عمارت نہ ہو تو اس پر کسی بھی قسم کے فلیٹس بنا کر بیچنا جائز نہیں ہوگا۔
فتای رشیدیہ میں ہے:
"جو جگہ وقف ہوچکی ہے وہ اب بیع نہیں ہوسکتی."
"جو زمین مسجد کے لئے وقف ہوچکی ہے اس میں مکان بنانایاکھیتی کرنا درست نہیں ہے"
(وقف کے مسائل،ص:434،اور435،ط:ادارہ اسلامیات لاہور)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما كذا في شرح أبي المكارم للنقاية."
(کتاب الوقف،الباب الأول في تعريفه وركنه وسببه وحكمه وشرائطه،ج2،ص350،ط؛دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به."
(كتاب الوقف، مطلب استأجر دارا فيها أشجار، ج:4، ص:433، ط:سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
"فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن.
وفي الرد:(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه."
(كتاب الوقف، ج:4، ص:352، ط:سعيد)
"الفقہ الاسلامی وادلتہ" میں ہے:
"إذا صحّ الوقف خرج عن ملک الواقف ، وصار حبیسًا علی حکم ملک الله تعالی ، ولم یدخل في ملک الموقوف علیه ، بدلیل انتقاله عنه بشرط الواقف (المالک الأول) کسائر أملاکه ، وإذا صحّ الوقف لم یجز بیعه ولا تملیکه ولا قسمته."
(الباب الخامس:الوقف، الفصل الثالث: حكم الوقف، ج:10، ص:7617، ط:دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101388
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن