
1۔ تصویر کھینچنا حرام ہے، تو آج کل جس طرح علما اور مفتی بھی تصویریں کھنچواتے ہیں اور بیان بھی اسی طرح کرتے ہیں، تو کیا یہ ان کے لیے جائز ہے یا حرام ہی ہے؟
2۔ اسی طرح جس چینل کے ذریعہ وہ لوگوں تک بیان پہنچاتے ہیں، تو اس میڈیا کی صورت میں جو پیسے حاصل ہوتے ہیں، کیا وہ حرام ہیں یا جائز؟ اور اگر کوئی شخص اپنا چینل کھولے اور اس سے جو آمدنی حاصل ہو، تو کیا اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟
3۔ آج کل لوگوں میں یہ رسم بن گئی ہے کہ ہال میں جب دلہن اور دولہا داخل ہوتے ہیں تو لائٹس کو آن آف کیا جاتا ہے، یا کچھ لوگ اسماء الحسنی کے ذریعہ بھی دلہن اور دولہا کا استقبال کرتے ہیں، یعنی جسے انگریزی میں entrance کہتے ہیں۔ تو کیا یہ سب جائز ہے یا نہیں؟
4۔ شادی کے موقع پر دلہن کے نکاح اور ولیمے کا سوٹ بنتا ہے، جس میں اکثر دلہن کے لیے میکسی یا شرارے کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ان کی میکسی اور شرارے، اور ان کے دوپٹے بہت بڑے ہوتے ہیں، کم از کم اتنی لمبائی کے ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر کافی حد تک لٹکے رہتے ہیں۔ تو کیا ان کا اس طرح لٹکنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کتنی مقدار جائز ہے؟
5۔ لہنگا پہننا جائز ہے یا نہیں؟
1۔ صورت مسئولہ میں کسی بھی شخص کا تصویر اور ویڈیو بنانا ،بنوانا،ہمارے فتوے کے مطابق سب ناجائز ہے،چاہے بنانے والا عالم ہو یا غیر عالم ہو۔
2۔یوٹیوب پر چینل بناکر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے کی صورت میں اگر اس چینل کے فالوورز زیادہ ہوں تو یوٹیوب، چینل ہولڈر کی اجازت سے اس میں اپنے مختلف کسٹمر کے اشتہار چلاتا ہے، اور اس کی ایڈورٹائزمنٹ اور مارکیٹنگ کرنے پر ویڈو اَپ لوڈ کرنے والے کو بھی معاوضہ دیتا ہے۔
اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر چینل پر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے والا:
1۔ جان د ار کی تصویر والی ویڈیو اَپ لوڈ کرے، یا اس ویڈیو میں جان دار کی تصویر ہو، خواہ علماء کے بیانات ہوں۔
2۔ یا اس ویڈیو میں میوزک اور موسیقی ہو۔
3۔ یا اشتہار غیر شرعی ہو ۔
4۔ یا غیر شرعی چیزوں کا اشتہار ہو۔
5۔ یا اس کے لیے کوئی غیر شرعی معاہدہ کرنا پڑتا ہو۔
لہذا اس طرح کی ویڈیو پر کمائی حاصل کرنا جائز نہیں ہے ۔
3۔صورت مسئولہ میں ہال میں دولہا دلہن کے استقبال کےوقت اسماء الحسنی یا تلاوت وغیرہ لگانے سے اجتناب کرنا چاہیے؛اس لیے کہ اس وقت ذکر یا تلاوت سننا مقصود نہیں ہوتا، اور بے ادبی ہو سکتی ہے۔
5۔4۔میکسی یا شرارا،یا لہنگا پہننا جائز ہے،بشرطیکہ اعضائے مستورہ میں سے کوئی عضو ظاہر نہ ہوتا ہو ۔باقی دوپٹہ کا اتنا لمبا ہونا کہ وہ زمین پر لٹک رہا ہو، اسراف کی وجہ سے درست نہیں ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "أشد الناس عذاباً عند الله المصورون."
( باب التصاویر،ج:2، ص:385، ط: قدیمي)
"ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت ترین عذاب کا مستوجب، مصور (تصویر بنانے والا)ہے“۔
(مظاہر حق جدید، ج: 4 ، ص: 230، ط: دارالاشاعت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ."
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و مايكره فيها، ج: 1، ص: 647، ط: سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
’’قال ابن مسعود: صوت اللهو و الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: و في البزازيةا: استماع صوت الملاهي كضرب قصب و نحوه حرام؛ لقوله عليه الصلاة و السلام: استماع الملاهي معصية، و الجلوس عليها فسق، و التلذذ بها كفر؛ أي بالنعمة.‘‘
( كتاب الحظر والاباحة،ج:6،ص:349/348،ط:سعيد)
الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:
"اتفق الفقهاء على أنه يجب على المرأة أن تلبس من الملابس ما يغطي جميع عورتها."
(لباس المرأة،الحكم التكليفي:،ج:35،ص:192،ط:دارالسلاسل الكويت)
فتاوی شامی میں ہے:
"مطلب في الفرق بين قصد الجمال وقصد الزينة (قوله: إذا لم يقصد الزينة) اعلم أنه لا تلازم بين قصد الجمال وقصد الزينة فالقصد الأول لدفع الشين وإقامة ما به الوقار وإظهار النعمة شكرا لا فخرا، وهو أثر أدب النفس وشهامتها، والثاني أثر ضعفها، وقالوا بالخضاب، وردت السنة ولم يكن لقصد الزينة ثم بعد ذلك إن حصلت زينة فقد حصلت في ضمن قصد مطلوب فلا يضره إذا لم يكن ملتفتا إليه فتح، ولهذا قال في الولوالجية لبس الثياب الجميلة مباح إذا كان لا يتكبر؛ لأن التكبر حرام، وتفسيره أن يكون معها كما كان قبلها اهـ بحر."
(کتاب الصوم، باب مايفسد الصوم ومالا يفسده، مطلب في الفرق بين قصد الجمال وقصد الزينة، ج: 2، ص: 417، ط: سعید)
المحیط البرھانی میں ہے:
"لا بأس للإنسان أن يتغنى إذا كان يسمع ويؤنس نفسه، وإنما يكره إذا كان يسمع ويؤنس غيره، ومن الناس من يقول: لا بأس به في الأعراس والوليمة، ألا ترى أنه لا بأس بضرب الدفوف في الأعراس والوليمة، وإن كان ذلك نوع لهو وإنما لم يكن به بأس؛ لأن فيه إظهار النكاح وإعلانه."
(كتاب الاستحسان، الفصل الثامن عشر في الغناء واللهو، ج:5، ص:369، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100022
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن