بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

جس ملک میں کرونا وائرس عام نہ ہو، وہاں صفوں کے درمیان فاصلہ رکھے بغیر نماز ادا کرنا


سوال

ایران میں ہمارے شہر میں کرونا وائرس کے عام نہ ہونے کے باوجود  لوگوں کی طرف سے مسجدوں میں نماز  با جماعت کی صفوں میں جدا جدا کھڑے ہونے  پر زور دیاجاتاہے اور اسی طرح نماز ادا کرنے کو (سلامتی کے وجہ سے) واجب سمجھا  جاتاہے۔ کیا اس حالت میں ہمارے لیے اجازت ہے کہ ایک صف میں فاصلہ رکھے  بغیر نماز پڑھ لیں؟ 

جواب

عام حالات میں باجماعت نماز کے دوران مقتدیوں کا صفوں میں دائیں بائیں جانب سے فاصلہ رکھنا مکروہِ تحریمی ہے۔ جب کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر   (یعنی جن ملکوں اور علاقوں میں کرونا وائرس کی وبا عام ہے) حکومتی احکامات کی بنا پر مسجد  کی حدود میں صفوں کے درمیان دائیں بائیں جانب فاصلہ رکھ کر نماز ادا کرلی جائے تو کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی، البتہ جماعت کے ثواب میں کمی نہ ہوگی۔

  تاہم اگر موجودہ حالات میں کوئی فاصلہ رکھے بغیر نماز قائم کرے تو شرعاً ممانعت نہیں۔  نیز  اگر آپ کے شہر میں کرونا وائرس کی وبا عام نہیں ہے، اور آپ کے ملک میں حکومتی سطح پر فاصلہ رکھنے کو لازمی قرار نہیں دیا  گیا ہے تو  اس صورت میں فاصلہ رکھنے سے اجتناب کیا جائے۔

صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ  نماز کے لیے مسجد تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ رکوع کی حالت میں تھے،  انہوں نے جلدی میں (کہ رکعت نہ نکل جائے) صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی اقتدا کرکے رکوع کرلیا، پھر اسی حالت میں صف میں شامل ہوگئے،  رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم  ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ آپ کا شوق مزید بڑھائے، لیکن آئندہ ایسے نہ کرنا۔

"عن أبي بكرة رضي الله عنه: أنه انتهى إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو راکع، فركع قبل أن يصل إلى الصف، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ((زادك الله حرصًا، ولا تعُدْ)). (رواه البخاري في كتاب صفة الصلاة، باب إذا ركع دون الصف،  ١ / ٢٧١)

النور الساري من فيض صحيح الإمام البخاري للشيخ حسن العدوي الحمزاوي  میں ہے:

"و في الفيض الباري: قال الحافظ: المراد بذلك المبالغة في تعديل الصف و سدّ خلله، قال: وهو مراده عند الفقهاء الأربعة أي أن لايترك في البين فرجة تسع فيها ثالثًا". ( أبواب صلاة الجماعة و الامامة، ٢ / ٥٢٣، ط: دار الكتب العلمية) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108201443

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں