
میں ایک مسجد کا امام، اور ایک مدرسے میں بطورِ مدرس پڑھاتا ہوں، مجھے تنخواہوں میںجتنے پیسے ملتے ہیں اسی سے گھر کا خرچہ چلاتا ہوں، اضافی پیسے بچتے نہیں ہے، تاہم کبھی کبھار دس ہزار کم وبیش روپے اضافہ بھی ہو جاتے ہے، مسجد کے محلے میں میرا ذاتی گھر ہے جو کہ دو کمروں پر مشتمل ہے، ایک کمرے میں ہم بیوی بچے رہتے ہیں، اور دوسرے کمرے میں میری کتابیں ہیں، یعنی وہ میرا مکتبہ ہے جس میں مطالعہ وغیرہ کرتا ہوں، جب کوئی مہمان وغیرہ آتے ہیں تو ان کو بھی مجبوراً گھر کے اندر اسی کتابوں والے کمرے میں بٹھادینا پڑتا ہے، البتہ رات گزارنے والے مہمان ادر نہیں ٹھہر سکتے، کیوں کہ یہ کمرہ گھر کے اندر ہے اور واش روم وغیرہ کی سہولت مستقل مہمانوں کے لیے الگ نہیں ہے، البتہ چند وقت کے لیے آنے والے مہمان کو اسی کمرے میں بٹھا سکتا ہوں۔
نیز اس کمرے میں بچوں اور عورتوں کی آوازیں بھی پہنچ رہی ہوتی ہیں، جب مہمان آتا ہے توگھر والوں کو خاموش کرانا پڑتا ہے، اب میرا ارادہ ہے کہ مہمانوں کے لیے تیسرا کمرہ، مذکورہ کمروں کی چھت پر بناؤں،تاکہ وہ مستقل مہمانوں کے لیے ہوجائے، جو بھی مہمان آئے تو وہ مذکورہ کمرے میں بغیر کسی پریشانی کے ٹھہر سکے۔
تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ تیسرا کمرہ (جو مہمانوں کے لیے بنایاجارہا ہے) میری ضروریات میں شمار ہوگا، یا نہیں؟ اگر ضروریات سے خارج ہے توکیا قربانی کے نصاب میں شمار ہوکر قربانی واجب ہوجائے گی یا نہیں؟
اصل میں مجھے فتاوی عالمگیری کی اس جزئیہ کی وجہ سے اشکال پیدا ہو رہا ہے جس کی عبارت یہ ہے:"ولو كان له دار فيها بيتان شتوي وصيفي وفرش شتوي وصيفي لم يكن بها غنيا، فإن كان له فيها ثلاثة بيوت وقيمة الثالث مائتا درهم فعليه الأضحية وكذا في الفرش الثالث."(الفتاوى العالمكيرية، 5/ 293)
برائے مہربانی مذکورہ جزئیہ کو دیکھتے ہوئے صریح حوالہ جات کے ساتھ جواب عنایت فرماکر مطمئن فرمائیں، اور مذکورہ جزئیہ کا بھی درست حمل بتائیں۔
واضح رہے کہ حوائج اصلیہ ہر انسان کے دوسرے سے مختلف ہوا کرتی ہیں، بعض کے لیے ایک چیز حاجت ہوگی جب کہ دوسرے کے لیے نہیں ہوگی، شریعت میں راجح قول کے مطابق حوائج کوجائز طریقے سے پورا کرنے کے لیے اشیاء کو اپنی ملکیت میں رکھنے کی کوئی خاص تعداد متعین نہیں ، فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق حوائجِ اصلیہ وہ ہوتی ہیں جن پر انسان کی زندگی کا گزر بسر ہوتا ہے،جس کے لیے انسان کی ضرورت پیش آتی ہو، جس سے انسان کی جان اور آبرو متعلق ہو، یعنی جان اور عزت بچانا اس پر موقوف ہو، جیسے کھانے پینے، رہن سہن اور گھر میں استعمال ہونے والی اشیاء ، نیز اہلِ حرفت کے لیے حرفت کا سامان وغیرہ یہ سب ضرورت اصلیہ کے تحت آتے ہیں۔ البتہ جو چیزیں استعمال میں نہ ہوں، یا سامانِ تجارت ہو تو وہ ضرورت اصلیہ سے خارج شمار ہوگا، اگر اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو ایسی صورت میں قربانی واجب ہوگی،یا کسی کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی موجود ہو تو اس سے بھی قربانی واجب ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جو کمرہ آپ مہمانوں کے لیے گھر کی چھت پر بنائیں گے اور استعمال میں لائیں گے تو وہ ضرورتِ اصلیہ میں شمار ہوگا، جس کی وجہ سے آپ پر قربانی واجب نہیں ہوگی، البتہ اگر اس کے علاوہ دیگر چیزیں ضرورت سے زائد موجود ہوں اور مجموعہ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچتی ہو تو اس کی وجہ سے قربانی واجب ہوجائے گی، البتہ کمرے کو شمار نہیں کیا جائے گا۔
باقی جو جزئیہ فتاوی عالمگیری کا ذکر کیا گیا ہے، وہ اپنی جگہ درست ہے، اس میں جو تیسرا بیت ہے اس سے مراد تیسرا گھر ہے، اور اس کو ضرورت سے زائد شمار کیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ استعمال میں نہیں آتا البتہ گرمی اور سردی کے موسم کے مطابق بنائے گئے گھر موسم کے اعتبار سے استعمال میں آتا ہے، اور یہ تیسرا گھر زائد ہے اس لیے اس کی قیمت اگر چاندی کے نصاب کے برابر ہے تو قربانی اور صدقۂ فطر ادا کرنا لازم ہے، باقی گھر کے اوپر مہمانوں کے لیے جو کمرہ بنایا جارہا ہے وہ ضرورت کے لیے ہے، ضرورت سے زائد نہیں ہے اس لیے اس کی وجہ سے قربانی وغیرہ لازم نہیں ہوگا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار، ولا يعتبر فيه وصف النماء ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية."
(كتاب الزكاة، الباب الثامن في صدقة الفطر، 1/ 191، ط: دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم. وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه ...
(قوله وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديرا كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن الجهل عندهم كالهلاك، فإذا كان له دراهم مستحقة بصرفها إلى تلك الحوائج صارت كالمعدومة، كما أن الماء المستحق بصرفه إلى العطش كان كالمعدوم وجاز عنده التيمم."
(كتاب الزكاة، 2/ 262، ط: سعيد)
درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے:
"تجب على حر مسلم) و لو صغيرًا (له نصاب الزكاة فاضلًا عن حاجته الأصلية و إن لم ينم) و قد مر بيانه.
(قوله: فاضلًا عن حاجته الأصلية) أقول: و من حوائجه الأصلية حوائج عياله فلا بد أن يكون النصاب فاضلًا عن حوائجه و حوائج عياله و لم يبين المصنف مقدار الحاجة إشارة إلى ما عليه الفتوى من أن العبرة للكفاية من غير تقدير فيعتبر ما زاد على الكفاية له ولعياله، كذا في مختصر الظهيرية."
(کتاب الزکاة، باب صدقة الفطر، 193/1، ط: دار إحياء الكتب العربية)
فتح القدیر میں ہے:
"كأثياب تساوي نصابا لا يحتاج إلى كلها أو أثاث لا يحتاج إلى استعماله كله في بيته وعبد وفرس لا يحتاج إلى خدمته وركوبه ودار لا يحتاج إلى سكنها، فإن كان محتاجا إلى ما ذكرنا حاجة أصلية فهو فقير يحل دفع الزكاة إليه وتحرم المسألة عليه."
(كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز، 2/ 261، ط: دار الفكر، بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100570
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن