بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا مظلوم شخص کو ظالم سے اپنی جان و مال کے دفاع میں طاقت کا استعمال کرنے کی اجازت ہے؟


سوال

ایک اہم شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہے۔ مختصراً گزارش ہے کہ:ہمارے علاقے میں تین اشخاص ہیں:(1) زید، جو کینیڈا میں مقیم ہیں اور وہیں کی شہریت رکھتے ہیں۔ ان کی مکمل فیملی بھی وہیں آباد ہے اور ان کا واپس پاکستان آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔(2) بکر، جو پاکستان میں مقیم ہے، ایک دیانت دار شخص ہے۔(3) عمر، جو زید اور بکر کا دور کا رشتہ دار ہے، لیکن نہایت ظالم اور بدمعاش مزاج رکھتا ہے، اور حکومت میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔زید کی پاکستان میں وراثتی زمین موجود تھی، جسے اس نے مکمل طور پر بکر کو اپنی خوشی سے ہبہ (تحفہ) کر دیا ہے۔ اس بات کی زید نے ویڈیو کال کے ذریعے بھی تصدیق کی، جس میں اس نے واضح طور پر کہا کہ: "میری یہ زمین بکر کی ہے، میں اپنی طرف سے مکمل طور پر اس کو دے چکا ہوں۔"یہ ویڈیو اہلِ علاقہ نے دیکھی، اوراس کے بعد مقامی طور پر کئی مرتبہ جرگہ ہوا، اور سب لوگوں کو علم ہے کہ یہ زمین اب بکر کی ملکیت ہے،اب مسئلہ یہ ہے کہ:عمر نے زبردستی نہ صرف بکر کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے بلکہ زید کی طرف سے دی گئی زمین پر بھی قبضہ جما لیا ہے۔ متعدد بار پولیس اور عدالت کے چکر لگے، لیکن عمر کا حکومتی تعلق ہونے کی وجہ سے ہر بار ضمانت پر رہا ہو جاتا ہے۔ زمین کے اصل کاغذات بکر کے پاس ہیں، مگر زبردستی کا مقابلہ ممکن نہیں۔عمر نے بکر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ بکر مکمل طور پر مایوس ہو چکا ہے، اور اپنی زمین واپس لینے کے لیے قانونی اور مقامی ذرائع آزما چکا ہے، لیکن ناکام رہا ہے۔

اب بکر کی طرف سے سوال ہے: "کیا شریعت بکر کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنی جان اور مال کے تحفظ کے لیے عمر کو خود طاقت سے ہٹائے؟ اور اگر عمر کی جان کو خطرہ بن جائے تو اس صورت میں اس کے خلاف اقدام کرنے کی اجازت ہے؟"براہِ کرم اس مسئلے کی روشنی میں شرعی حکم تفصیل سے بیان فرما دیں کہ:1. بکر کو اپنی زمین لینے کے لیے کیا اقدامات شرعی طور پر جائز ہیں؟

2. کیا مظلوم شخص کو ظالم سے اپنی جان و مال کے دفاع میں طاقت کا استعمال کرنے کی اجازت ہے؟

3. اگر بکر کو اپنی جان کا خطرہ ہو تو وہ شریعت کی رو سے کیا قدم اٹھا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ اسلامیہ ہر انسان کو اس بات کا حق دیتی ہے کہ وہ اپنی جان، مال اور عزت کی حفاظت کرے۔ اگر کوئی شخص اپنی جان یا مال بچاتے ہوئے مارا جائے، تو شریعت ایسے شخص کو "شہید" قرار دیتی ہے، کیونکہ وہ ایک جائز اور ضروری مقصد کے لیے مزاحمت کر رہا ہوتا ہے۔

لہٰذاصورت مسئولہ  میں بکر کو بھی اپنی زمین واپس لینے کا پورا شرعی حق حاصل ہے، کیونکہ وہ اس زمین کا شرعی طورپر مالک ہے۔ زید نے خوشی سے وہ زمین بکر کو دی ہے، اور سب کے علم میں یہ بات آ چکی ہے،تاہم   یہ واضح رہے کہ بکر کو کسی ایسے اقدام کی شرعاً اجازت نہیں ہےکہ جو عمر کو مالی جانی نقصانی پہنچنے کاسبب ہو البتہ اگر کسی موقع  پر خداونخواستہ عمر اپنے فریق مخالف بکر پر حملہ کردے تو بکر کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوگا ۔

لہٰذا مناسب یہی ہے کہ بکر قانونی راستہ اپنائے، مثلاً عدالت، وکیل، پولیس یا زمین کے متعلقہ محکمے سے رجوع کرے، اور اگر وہاں انصاف نہ ملے تو علاقے کے بزرگوں، علمائے کرام، یا جرگہ سسٹم کے ذریعے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کرے۔

حدیث میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «من قتل دون ماله فهو شهيد»."

(صحیح البخاری،باب من قتل دون ماله ج:2، ص:877، ط: دار ابن كثير)

ترجمہ:" عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو آدمی اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے۔"

عمدۃ القاری میں ہے:

 "وقال النووي: وفي المدافعة عن النفس بالقتل خلاف في مذهبنا ومذهب غيرنا، والمدافعة عن المال جائزة غير واجبة. وفيه: أن القاصد إذا قتل لا دية له ولا قصاص. وفيه: أن الدافع إذا قتل يكون شهيدا. وقال الترمذي: وقد رخص بعض أهل العلم للرجل أن يقاتل عن نفسه وماله. وقال ابن المبارك: يقاتل ولو درهمين. وقال المهلب: وكذلك في كل من قاتل على ما يحل له القتال عليه من أهل أو دين فهو كمن قاتل دون نفسه وماله، فلا دية عليه ولا تبعة، ومن أخذ في ذلك بالرخصة وأسلم المال والأهل والنفس فأمره إلى الله تعالى، والله يعذره ويأجره، ومن أخذ في ذلك بالشدة وقتل كانت له الشهادة. وقال ابن المنذر: وروينا عن جماعة من أهل العلم أنهم رأوا قتال اللصوص ودفعهم عن أنفسهم أموالهم، وقد أخذ ابن عمر لصا في داره، فأصلت عليه السيف، قال سالم: فلولا أنا لضربه به، وقال النخعي: إذا خفت أن يبدأك اللص فابدأه. وقال الحسن: إذا طرق اللص بالسلاح فاقتله، وسئل مالك عن القوم يكونون في السفر فتلقاهم اللصوص؟ قال: يقاتلونهم ولو على دانق. وقال عبد الملك: إن قدر أن يمتنع من اللصوص فلا يعطهم شيئا. وقال أحمد: إذا كان اللص مقبلا، وأما موليا فلا. وعن إسحاق مثله. وقال أبو حنيفة في رجل دخل على رجل ليلا للسرقة ثم خرج بالسرقة من الدار، فاتبعه الرجل فقتله: لا شيء عليه. وقال الشافعي: من أريد ماله في مصر أو في صحراء، أو أريد حريمه، فالاختيار له أن يكلمه أو يستغيث، فإن منع أو امتنع لم يكن له قتاله، فإن أبى أن يمتنع من قتله من أراد قتله، فله أن يدفعه عن نفسه وعن ماله، وليس له عمد قتله، فإذا لم يمتنع فقاتله فقتله لا عقل فيه ولا قود ولا كفارة."

(كتاب المظالم و الغصب، باب من قاتل دون ماله، ج:13، ص:35، ط: دار احياء التراث العربي)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(وعن أبي هريرة قال: جاء رجل فقال: يا رسول الله أرأيت) : أي: أخبرني (إن جاء رجل يريد أخذ مالي؟) : أي: غصبا (قال: فلا تعطه مالك) ...يعني: إن جاء رجل بهذه الصفة فأعطه أم لا؟ قال: فلا تعطه،  يعني إن كان كما وصفته وعلى هذا قوله: (قال: أرأيت إن قاتلني: قال: قاتله) . قال: أرأيت إن قتلني؟ قال: فأنت شهيد) : وأما ما جاء بلا فاء من قوله: (قال: أرأيت إن قتلته؟ . قال: هو في النار)... اهـ. ومعنى هو في النار أنه لا شيء عليك، وفيه أن دفع القاتل وهلكه في الدفع مباح."

(كتاب الديات، باب مالا يضمن من الجنايات، ج:6، ص:2298، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100847

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں