
بعض لوگ میت کے فوت ہو جانے کے بعد گھر میں ختم پڑھواتے ہیں، اور پھر ختم کے مختلف طریقے ہیں۔ بعض جگہوں پر اس میں پہلے قرآن خوانی ہوتی ہے، پھر میت کے گھر والوں کی طرف سے کھانا ہوتا ہے، جبکہ بعض جگہوں پر صرف کھانا ہوتا ہے قرآن خوانی کے بغیر۔ اسی طرح پھر یہ ختم کبھی فوتگی کے تیسرے دن کے ساتھ خاص ہے اور بعض جگہوں میں تیسرے دن کے علاوہ۔ اسی طرح پھر فوتگی کے بعد چار ختم ترتیب وار ہر ہفتے میں جمعرات کے دن کیے جاتے ہیں، پھر ان چار ختموں کے بعد جب چالیس دن پورے ہو جائیں، یا اس کے کچھ دن یا مہینے گزرنے کے بعد خیرات کے نام سے بڑا اجتماع ہوتا ہے۔
اس میں عمومی طور پر دو کام اکثریت کے ساتھ ہوتے ہیں:
پہلا کام یہ کہ میت کی قبر کے چاروں طرف سیڑھی کی صورت کی طرح ماربل یا اس کے علاوہ پختگی کی کوئی بھی صورت قبر کے ساتھ کر لی جاتی ہے۔
دوسرا کام یہ کہ اس کی میراث میں بیل وغیرہ کوئی بڑا جانور ذبح کیا جاتا ہے اور پھر دیگ وغیرہ تیار ہوتی ہیں، اور علاقہ بھر کے لوگ اور دُور دُراز کے لوگ، امیر اور غریب سب اس میں شریک ہوتے ہیں۔ بعض جگہوں پر خیرات والی صورت الگ سے سرانجام دی جاتی ہے اور قبر پختہ کرنا الگ سے ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا شریعت میں ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟
نیز یہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ اگر میت کو ایصالِ ثواب کرنا ہو تو اس کی کیا صورت اختیار کی جائے جو اس کے متبادل ہو۔
شریعت میں ایصال ثواب کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں ہے، جو شخص جس وقت جس دن چاہے، کوئی بھی نفلی عبادت کر کے اُس کا ثواب میت کو بخش سکتا ہے۔ مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے عزیز و اقارب کا نفسِ قرآن کریم پڑھنا اور میت کے لیے دعا کرنا اور میت کی طرف سے غریبوں کو کھانا کھلانا جائز ہے، لیکن مذکورہ و مروجہ طریقہ پر دن متعین کرکے چاہے تیسرے دن ہو یا ہر جمعرات کے دن یا چالیسویں دن اجتماعی قرآن خوانی کرنا ، جس میں میت کے یہاں کھانے پینے کا التزام ہو اور لوگوں کو باقاعدہ دعوت دے کر جمع کرنا ،نہ آنے والوں سے ناراضی کا اظہار کرنا یا میت کے گھرانے والوں کا عام لوگوں کے لیے یا پورے گاؤں کے لیےقرآن خوانی کے بعد دعوت و خیرات کا اہتمام کرنا ، اور ان سب باتوں کو باعثِ ثواب اور شریعت کا حصہ سمجھنا بدعت ہے اور ناجائز و ممنوع ہے، قرآن خوانی کے بغیر بھی میت کے لیے اس طرح خیرات کرنے کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ہے۔کیوں کہ دعوت کا کھانا تو خوشی کے موقع پر مشروع ہے نہ کہ غم کے موقع پر، اسی لیے فقہاء نے تعزیت کے موقع پر کھانے کی دعوت کو مکروہ اور بدعتِ مستقبحہ قرار دیا ہے۔
لہذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ غمی ہو یا خوشی کسی حال میں بھی دین کے احکامات سے رو گردانی نہ کرے، بلکہ ہر خوشی و غم کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے حکم کو سامنے رکھ کر اس پر چلنے کی پوری کوشش کرے۔اور ذکر کردہ تمام طریقوں سے اجتناب کیا جائے۔ البتہ ہر فرد انفرادی طور پر یا دعوت و اہتمام کے بغیر ورثاء کسی دن مل بیٹھ کر قرآن خوانی کرکے ایصال ثواب کریں تو یہ جائز ہوگا۔
نیز قبر کا مکمل طور پہ پختہ کرلینا شرعاً ممنوع ہے، اس عمل سے بھی اجتناب لازم ہے البتہ قبر کے اطراف میں ماربل لگانے یا اسراف کے بغیر صرف دائیں بائیں سے کوئی پتھر لگادینا کہ اصل قبر (یعنی جتنے حصے میں میت دفن ہے) کچی مٹی کی ہو، اور اردگرد پتھر، یا بلاک وغیرہ سے منڈیر نما بنا دیا جائے یا معمولی سا احاطہ بنا دیا جائے کہ قبر کا نشان نہ مٹ جائے، یا اردگر زمین پر پختہ فرش کردیا جائے؛ تاکہ قبر واضح ہوجائے، اس کی اجازت ہے، لیکن اس میں بھی دو باتوں کا خیال ضروری ہے:
1: اس کے لیے سادہ پتھر استعمال کیا جائے زیب زینت والا کوئی پتھر نہ ہو۔ نیز آگ پر پکی ہوئی اینٹیں بھی نہ لگائی جائیں۔
2: قبر کے اوپر قبہ نما یا حجرہ بناکر چھت نہ ڈالی جائے۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن جابر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبر، وأن يقعد عليه، وأن يبنى عليه."
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے اور ان پر عمارت بنانےاور ان پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
(کتاب الجنائز، باب النهي عن تجصیص القبر، رقم الحدیث: 970، ج: 3، ص: 61، ط: دار طوق النجاة)
سنن ابی داؤد میں ہے:
"عن أبي أسيد مالك بن ربيعة الساعدى، قال: بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ جاءه رجل من بني سلمة، فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم، هل بقي من بر أبوى شي أبرهما به بعد موتهما؟ قال: "نعم، الصلاة عليهما، والاستغفار لهما، وإنفاذ عهدهما من بعدهما، وصلة الرحم التي لا توصل إلا بهما، وإكرام صديقهما."
(كتاب الأدب، باب في بر الوالدين، ت: الأرنؤوط، رقم الحدیث: 5137، ج: 8، ص: 452، ط: دار الرسالة العالمية)
ترجمہ: ابو أسید الساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص آیا اور پوچھا: یارسول اللہ! کیا والدین کے انتقال کے بعد بھی ان کی نیکی (یعنی ان کے ساتھ بھلائی) کا کوئی طریقہ باقی رہتا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ان کے لیے دعا کرنا، ان کے لیے استغفار کرنا، ان کے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرنا، ان رشتوں کا خیال رکھنا جو والدین کی وجہ سے جڑتے ہیں، اور ان کے دوستوں کی عزت کرنا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولا بأس برش الماء عليه) حفظا لترابه عن الاندراس (ولا يربع) للنهي هو ما رواه محمد بن الحسن في الآثار: أخبرنا أبو حنيفة قال: حدثنا شيخ لنا يرفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم «أنه نهى عن تربيع القبور وتجصيصها» إمداد (ويسنم) ندبا. وفي الظهيرية وجوبا قدر شبر (ولا يجصص) ... (قوله: ولا يجصص) أي لا يطلى بالجص بالفتح ويكسر قاموس.
(ولا يطين، ولا يرفع عليه بناء. وقيل: لا بأس به، وهو المختار) كما في كراهة السراجية. وفي جنائزها: لا بأس بالكتابة إن احتيج إليها حتى لا يذهب الأثر ولا يمتهن."
(کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في دفن الميت، ج: 2، ص: 237، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ويسنم القبر قدر الشبر ولا يربع ولا يجصص ولا بأس برش الماء عليه ويكره أن يبنى على القبر أو يقعد أو ينام عليه أو يوطأ عليه أو تقضى حاجة الإنسان من بول أو غائط أو يعلم بعلامة من كتابة ونحوه، كذا في التبيين.
وإذا خربت القبور فلا بأس بتطيينها، كذا في التتارخانية، وهو الأصح وعليه الفتوى، كذا في جواهر الأخلاطي."
(کتاب الجنائز، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل السادس في القبر والدفن، ج: 1، ص: 166، ط: دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ. مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت
وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. وفيها من كتاب الاستحسان: وإن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا اهـ وأطال في ذلك في المعراج. وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. وبحث هنا في شرح المنية بمعارضة حديث جرير المار بحديث آخر فيه «أنه عليه الصلاة والسلام دعته امرأة رجل ميت لما رجع من دفنه فجاء وجيء بالطعام» . أقول: وفيه نظر، فإنه واقعة حال لا عموم لها مع احتمال سبب خاص، بخلاف ما في حديث جرير. على أنه بحث في المنقول في مذهبنا ومذهب غيرنا كالشافعية والحنابلة استدلالا بحديث جرير المذكور على الكراهة، ولا سيما إذا كان في الورثة صغار أو غائب، مع قطع النظر عما يحصل عند ذلك غالبا من المنكرات الكثيرة كإيقاد الشموع والقناديل التي توجد في الأفراح، وكدق الطبول، والغناء بالأصوات الحسان، واجتماع النساء والمردان، وأخذ الأجرة على الذكر وقراءة القرآن، وغير ذلك مما هو مشاهد في هذه الأزمان، وما كان كذلك فلا شك في حرمته وبطلان الوصية به، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج: 2، ص: 240، ط: سعيد)
کفایت المفتی میں ہے:
"رسم قل، دسواں، چالیسواں اور شرینی پر فاتحہ پڑھنا سب بدعت ہے:
(سوال) میت کے لیے تیسرے دن قل و ساتواں و چالیسواں کرنا اور اسقاط میت کا کرانا، جیساکہ آج کل مروج ہے ایسا کرنا قرآن و حدیث صحیحہ سے ثابت ہے یا نہیں؟
(2) فاتحہ بر طعام قبل از کھانے کے پڑھنا قرآن و حدیث صحیحہ سے ثابت ہے یا نہیں؟
(جواب ) ایصالِ ثواب جائز ہے، مگر قل اور ساتواں، دسواں، چہلم یہ سب بدعات ہیں۔ اپنی حیثیت اور مقدار کے موافق جو کچھ میسر ہو اور جب میسر ہو صدقہ کرکے ثواب بخش دینا چاہیے، اسقاط کا مروجہ طریقہ بھی ناجائز ہے، ایصالِ ثواب کے لیے کھانا شیرینی سامنے رکھ کر فاتحہ پڑھنا بے اصل ہے، بلکہ جیسے نقدی وغیرہ بغیر فاتحہ صدقہ کردیتے ہیں اسی طرح کھانے شیرینی کے ساتھ بھی معاملہ کرنا چاہیے۔"
(کتاب الجنائز، ج: 4، ص: 134،ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100388
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن