
ہمارے والد صاحب کے انتقال کو پانچ ماہ گزر چکے ہیں، مرحوم کی میراث دار الافتاء ہذا سے پوچھ کر تقسیم کر لی گئی تھی، تقسیم میراث میں والد مرحوم کے ترکہ سے ایک دوکان ہم تین بھائیوں کو مشترکہ طور پر ملی ہے، تو ان پانچ ماہ میں اس دکان کا جو کرایہ آیا ہے یہ ہم تین بھائیوں میں مشترک ہوگا یا جو بھائی دکان میں کام کرتا ہے صرف اس کا ہوگا؟
بڑے بھائی نے والد مرحوم کے انتقال پر کچھ خیرات وغیرہ کی تھی، اس پر جو اخراجات آئے تھے وہ مشترک پیسوں سے ادا کیے جائیں گے یا بڑے بھائی کے ذمہ ہوں گے؟خیرات کرتے وقت بڑے بھائی نے صرف یہ بتایا تھا کہ اتنی خیرات کر رہاہوں، ورثاء سے اجازت نہیں لی تھی۔
صورتِ مسئولہ میں والد مرحوم کے ترکہ سے جو دکان مرحوم کے تین بیٹوں کو مشترکہ طور پر ملی ہے، اس کا پانچ ماہ کا کرایہ تینوں بیٹوں میں مشترک ہوگااور ان تینوں میں یکساں طور پر تقسیم ہو گا۔
بڑے بھائی کے والد مرحوم کے انتقال پر خیرات کرتے وقت جو بالغ ورثا ترکہ میں سےخیرات کرنے پر راضی تھے تواس خیرات کے اخراجات ان تمام بالغ ورثاء پر مشترک ہو ں گے اور اگر خیرات کرتے وقت کوئی بالغ وارث اس پر راضی نہیں تھا تو اس خیرات کے اخراجات صرف بڑے بھائی کے ذمہ ہوں گے، نیز اگر ورثا میں کوئی نابالغ یا دیوانہ/ پاگل ہو تو اس کے حصے میں سے بھی یہ رقم منہا نہیں کی جائے گی۔
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:
"(المادة 1073): تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم."
(الکتاب العاشر: الشرکات، الباب الأول في ببان شرکة الملك، الفصل الثاني في بیان کیفیة التصرف في الأعیان المشترکة، ص: 206، ط: نور محمد)
وفیہ ایضا:
"(المادة 1075) كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر ولا يعتبر أحد وكيلا عن الآخر فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر بدون إذنه."
(الکتاب العاشر: الشرکات، الباب الأول في ببان شرکة الملك، الفصل الثاني في بیان کیفیة التصرف في الأعیان المشترکة، ص: 206، ط: نور محمد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100455
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن