بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا مسجد کے لیے امام ہونا ضروری ہے؟


سوال

ہمارے محلے کی مسجد کو تعمیر ہوئے تقریبا 70 برس گزر چکے ہیں اور وہ محلہ 60 گھروں پر مشتمل ہے جن میں سے آٹھ سے  دس  گھر والوں کا مطالبہ یہ ہے کہ مسجد کے لیے امام کو رکھا جائے، مگر بقیہ گھر والے چاہتے ہیں کہ مسجد امام کے بغیر ہی چلتی رہے، جو بقیہ گھر والے ہیں ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات پر فتوی دیا جائے کہ مسجد کے لیے امام کا ہونا ضروری ہے تو ہم تسلیم کریں گے۔

جواب

کسی بھی مسجد میں امام کے تقرر کی بنیادی علت یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا سنت مؤکدہ، بلکہ حکماً واجب ہے اور جماعت کے ساتھ نماز اسی وقت ادا کی جا سکتی ہے جب مسجد میں امامت کروانے کا اہل شخص موجود ہو، اگر باقاعدہ امام کا تقرر کیے بغیر ہر نماز میں ایسا شخص موجود ہوتا ہو جو جماعت سے نماز پڑھا لیتا ہو،نماز کے احکامات سے واقف ہو، سنت قراءت کے ساتھ امامت کروا سکتا ہو اور دین سے متعلق اس پر طعن بھی نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں باقاعدہ مستقل امام کا تقرر ضروری نہیں ہے۔

لیکن اگر مذکورہ شرائط نہ پائی جاتی ہوں، جس کی وجہ سے نماز باجماعت کا اہتمام نہ ہو پاتا ہو  تو ایسی صورت میں مستقل امام کا تقرر ضروری ہوگا؛ تاکہ وہ امام  لوگوں کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھا سکے۔

ملحوظ رہے کہ امام کے تقرر کے حوالے سے اختیارات مسجد کے متولی یا کمیٹی کو حاصل ہوتے ہیں، متولی/ کمیٹی  کو چاہیے کہ درج بالا اصول میں غور کر کے باہمی مشاورت سے کسی ایک نتیجے پر پہنچ جائیں، باقی بہتر یہی ہے کہ مسجد کے لیے  ایک امام مقرر کر لیا جائے؛ تا کہ اذانیں اورنمازیں بروقت باجماعت پڑھنے کا نظم مضبوط ہو سکے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(الباني) للمسجد (أولى) من القوم (‌بنصب ‌الإمام والمؤذن في المختار."

(كتاب الوقف ، جلد : 4 ، صفحه : 430 ، طبع : سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

" والجماعة سنة مؤکدة للرجال قال الزاهدي: أرادوا بالتاكيد الوجوب - في مسجد أو غیرہ - قال ابن عابدین نقلاً عن القنیة: واختلف العلماء في إقامتها في البیت والأصح أنها کإقامتها في المسجد إلا في الأفضلیة."

(كتاب الصلاة، باب الامامۃ، مطلب فی احکام المسجد،554/1،ط: ایچ ایم سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"الجماعة سنة مؤكدة. كذا في المتون والخلاصة والمحيط ومحيط السرخسي وفي الغاية قال عامة مشايخنا: إنها واجبة وفي المفيد وتسميتها سنة لوجوبها بالسنة وفي البدائع تجب على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج."

(كتاب الصلاة ، الباب الخامس ، جلد : 1 ، صفحه : 82 ، طبع : دار الفكر)

حجۃ اللہ البالغۃ میں ہے:

"ثم وقعت الحاجة إلى بيان الأحق بالإمامة، وكيفية الاجتماع، ووصية الإمام أن يخفف بالقوم، والمأمومين أن يحافظوا على اتباعه، وقصة معاذ رضي الله عنه في الإطالة مشهورة، فبين هذه المعاني بأوكد وجه، وهو قوله صلى الله عليه وسلم يؤم القوم أقرؤهم للكتاب الله فإن كانوا في القراءة سواء فأعلمهم بالسنة، فإن كانوا في السنة سواء فأقدمهم هجرة، فإن كانوا في الهجرة سواء فأقدمهم سنا، ولا يؤمن الرجل الرجل في سلطانه .

وسبب تقديم الأقرأ أنه صلى الله عليه وسلم حد للعلم حدا معلوما كما بينا، وكان أول ما هنالك معرفة كتاب الله لأنه أصل العلم، وأيضا فإنه من شعائر الله، فوجب أن يقدم صاحبه، وينوه بشأنه؛ ليكون ذلك داعيا إلى التنافس فيه، وليس كما يظن أن السبب احتياج المصلي إلى القراءة فقط، ولكن الأصل حملهم على المنافسة فيها، وإنما تدرك الفضائل بالمنافسة، وسبب خصوص الصلاة باعتبار المنافسة احتياجها إلى القراءة فليتدبر.

ثم من بعدها معرفة السنة لأنه تلو الكتاب، وبها قيام الملة، وهي ميراث النبي صلى الله عليه وسلم في قومه ..."

(الجماعة ، جلد : 2 ، صفحه : 42 ، طبع : دار الجيل)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100944

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں