
میں نے اپنی بیٹی کارشتہ کروایا، منگنی ہوگئی، اس کے بعدکچھ اختلافات کی بناپرلڑکےنے موبائل میسج کے ذریعہ تین دفعہ تاکیداً کہاکہ یہ رشتہ مجھے قبول نہیں، علاقےکےعلماء سےصلح کے ذریعہ ہم نےیہ رشتہ ختم کروایا،علماءنے یہ فیصلہ کیاکہ لڑکی کاوالدرشتہ ختم کرنے کے بدلےلڑکےکےوالدین کودولاکھ روپیہ جرمانہ اداکرےگاعرف کی بناپر۔
اب پوچھنایہ ہے کہ کیاشرعاًلڑکے والوں کادولاکھ روپیہ حق بنتاہے؟ کیالڑکی کےوالدپرلازمی ہے کہ ان کودولاکھ دے یاان کاحق نہیں بنتا؟یا لڑکی کے والدپرلازم نہیں ہے کہ ان کودولاکھ دے ؟جبکہ رشتہ کے دوران اتناخرچہ ہوابھی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ منگنی نکاح نہیں ہے ،بلکہ وعدۂ نکاح ہے، صورت مسئولہ میں محض منگنی میں نکاح شرعاً منعقد نہیں ہواتھا، البتہ وعدۂ نکاح ہوا تھا، وعدہ کوپوراکرناشرعاً،اخلاقاًاگرچہ ضروری ہے، لیکن چونکہ اس معاملے میں اختلافات اور لڑکے کے رشتے سے انکار کی بنیاد پر،دونوں جانب کی رضامندی سے اس وعدے کو ختم کیا گیا ہے؛ اس لیے اس میں کوئی گناہگار نہیں۔ رہا یہ مسئلہ کہ بطورِ جرمانہ رشتہ ختم کرنے کے بدلے دو لاکھ روپے ادا کیے جائیں، تو شرعاً نہ لڑکے والوں کا یہ حق بنتا ہے اور نہ ہی لڑکی کے والد پر یہ رقم ادا کرنا لازم ہے، کیونکہ مالی سزا دینا (تعزیر بالمال) ناجائز ہے،مزید یہ کہ اس کی بنیاد اگر عرف پر رکھی گئی ہو تو بھی یہ معتبر نہیں، کیونکہ عرف کے قابلِ قبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی نصِ شرعی کے مخالف نہ ہو، جبکہ یہ أکل بالباطل کے حکم میں ہےجو صریح قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ "(البقرۃ:188)
مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
"و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان و الدارقطني في المجتبى."
(کتاب البیوع،باب الغصب والعاریة،الفصل الثانی،ج1،ص261،رحمانیه)
فتاویٰ شامی میں ہے :
"مطلب في التعزير بأخذ المال
(قوله:لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج،وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان.
. . . . . . والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."
(کتاب الحدود، باب التعزیر، مطلب فی التعزیر باخذ المال، ج:4، ص:61، ط:سعید)
وفیه أیضاً:
"بيان حكم العرف العام والخاص، وأن العام معتبر ما لم يخالف نصاً."
(باب الصرف، مطلب فی مسائل المقاصة، ج:5، ص:280، ط:دارلفكر)
وفیه أیضاً:
"هل أعطيتنيها إن المجلس للنكاح، وإن للوعد فوعد.
قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح. اهـ."
(كتاب النكاح، جلد:3، صفحہ: 11، طبع: سعيد)
امداد الاَحکام میں ہے:
"الجواب :جرمانۂ مالی مذہبِ حنفی میں جائز نہیں ہے"۔
(کتاب الحدود والتعزیرات، حکم تعزیر بالمال، ج:4، ص:129، ط:دار العلوم کراچی)
کفایت المفتی میں ایک سوال کے جواب میں ہے:
’’منگنی کی جو مجلسیں منعقد کی جاتی ہیں وہ صرف رشتہ اور ناطہ مقرر کرنے کے لئے کی جاتی ہیں ۔ اس میں جو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں وہ وعدہ کی حد تک رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ منگنی کی مجلس کے بعد فریقین بھی اس کو نکاح قرار نہیں دیتے بلکہ اس کے بعد نکاح کی مجلس منعقد کی جاتی ہے اور نکاح پڑھایا جاتا ہے اس لئے ان مجالس کے الفاظ میں عرف یہی ہے کہ وہ بقصد وعدہ کہے جاتے ہیں نہ بقصد نکاح ۔ ورنہ نکاح کے بعد پھر مجلس نکاح منعقد کرنے کے لئے کوئی معنی نہیں ۔ نیز منگنی کی مجلس کے بعد منکوحہ سے اگر زوج تعلقات زن شوئی کا مطالبہ کرے تو کوئی بھی اس کے لئے آمادہ نہیں ہوتا بلکہ کہتے ہیں کہ نکاح تو ہوا ہی نہیں ۔ عورت کو مرد کے پاس کیسے بھیج دیا جائے، بہر حال منگنی کی مجلس وعدے کی مجلس ہے اس کے الفاظ سب وعدہ پر محمول ہوں گے ۔ کیونکہ عرف یہی ہے ۔ لہذا اس کو نکاح قرار دینا درست نہیں، البتہ اگر منگنی کی مجلس میں صریح لفظ نکاح استعمال کیا جائے ۔ مثلا ً زوج یا اس کا ولی یوں کہے کہ اپنی لڑکی کا نکاح میرے ساتھ کر دو اور ولی زوجہ کہے کہ میں نے اپنی لڑکی کا نکاح تیرے ساتھ کر دیا تو نکاح ہوجائے گا ۔ لأن الصریح یفوق الدلالة.‘‘
(کتاب النکاح،ج:5،ص:49،ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100554
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن