بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا مالک اشتر حضرت عثمان کے قتل میں ملوث تھے؟


سوال

کیا مالک اشتر، حضرت عثمان کے قتل میں ملوث تھے؟

جواب

مالک اشتر کا نام  صراحت کے ساتھ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے قاتلین میں کہیں نہیں ملا، البتہ مالک اشتر ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے فتنہ بھڑکایا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگوں کو اُبھارا، اور ان کے محاصرے میں شریک تھا۔

تاریخ دمشق میں ہے:

"وكان الأشتر ممن سعى في الفتنة، وألبّ على عثمان، وشهد حصره".

(تاريخ دمشق: ترجمة مالك بن الحارث بن عبد يغوث (56/ 391)، ط. دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع، عام النشر: 1415هـ = 1995م)

الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے:

"وذكره ابن سعد في الطّبقة الأولى من التّابعين بالكوفة، فقال: وكان ممن ألّب على عثمان، وشهد حصره".

(الإصابة في تمييز الصحابة: مالك بن الحارث (6/ 212)، ط. دار الكتب العلمية، بيروت، الطبعة الأولى: 1415 هـ)

فقط واللہ ٲعلم


فتویٰ نمبر : 144502102219

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں