بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا کسی صحابیہ کا نام سنینہ ثابت ہے؟


سوال

 آپ نے فتویٰ دیا ہے کہ" سُنَینہ" ایک صحابیہ کانام ہے،لیکن دارالعلوم دیوبند نے ایک سوال کے جواب میں فتویٰ دیا ہےکہ" سُنَینہ" نام کی صحابیہ کسی حدیث وغیرہ کی کتابوں میں نہیں ملا ۔  کیا "سُنَینہ "کسی صحابیہ کا نام ہے،اورکیا یہ نام رکھنا درست ہے، اور کیا اس صحابیہ کا کوئی واقعہ ہے ؟

جواب

"سُنَیْنَة" (’س‘ کے پیش اور ’ن‘ کے زبر کے ساتھ) ایک صحابیہ کا نام ہے، جن کا پورا نام"سنينة بنت مخنف بن زيد النكرية"ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے اپنی نومولود بیٹی کا نام "سُنَینَہ " رکھنا ناصرف جائز ہے، بلکہ باعث برکت و سعادت بھی ہے۔

الغرض"سنینہ" ایک صحابیہ کا نام ہے،ان سے ایک روایت بھی مروی ہے،البتہ ان سے متعلق کوئی واقعہ  منقول نہیں ہے۔

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ میں ہے:

"مخنف البكري ( مخنف البكري يعد فِي البصريين.)

روت عنه ابنته ‌سنينة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " يا مخنف، صل رحمك يطل عمرك، وافعل الخير يكثر خير بيتك، واذكر الله عز وجل عند كل حجر ومدر يشهد لك يوم القيامة ."

(باب الميم والخاء، ج5، ص128، ط:بعض دُور النشر)

وفیہ ایضاً:

"‌سُنَيْنَةُ - بضم السين، وفتح النون، وسكون الياء تحتها نقطتان، ثم نون - وهي ‌سنينة بنت مِخْنَف بن زيد النّكرية.

لها صحبة ورواية، حدثت عنها حبة بنت الشماخ النُّكرية، قاله ابن ماكولا.النكرية: بالنون، وقيل: بالباء."

(حرف السین، ج7، ص153، ط: بعض دُور النشر)

الإكمال لابن ماكولا میں ہے:

"وأما سنينة مثل الذى قبله سواء إلا أنه بسين مهملة فهى سنينة بنت مخنف بن زيد النكريه، لها صحبة [ورواية، حدثت عنها حبة بنت شماخ النكرية-]، وقيل بالباء فيهما *وسنينة مولى أم سلمة، روى عن أم سلمة، روى عنه موسى بن أبى عائشة."

(‌‌باب سحنون وسحقون وسخرور، ج4، ص265، ط: دائرة المعارف العثمانية، الهند)

الاستدراك على الاستيعاب میں ہے:

"‌سنينة بنت مخنف بن زيد النكرية لها صحبة ورواية ذكرها الأمير في كتابه."

(کتاب النساء، ج2، ص355، ط: وزارة الأوقاف والشوون الإسلامية - المغرب)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144612100340

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں