
میری اور میرے عزیز کی ایک مسئلے پر بات ہوئی ہم دونوں الحمدللہ عقائد میں دیوبندی ہیں، میں نے مولانا زکریاِ ؒ کی کتاب فضائل حج یا فضائل درود شریف میں شیخ کبیر رفاعی ؒ اور انہیں کتب میں یاکہیں اور مولانا جامی ؒ کے واقعات پڑھے تھے،جن میں لکھا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو آپ ﷺ کےروضۂ اقدس پر حاضری کے دوران اللہ کے رسول ﷺ سے مصافحہ اور آپ ﷺ کے دست مبارک پر بوسہ دینا نصیب ہوا۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ :
(1) ان دونوں واقعات کی حقیقت کیاہے ؟اور یہ دونوں واقعات کس قدر مستندہیں؟ کیا آپ ﷺ کی وفات کے بعد ایسا واقعہ ہونا ہمارے عقائد کے خلاف یا شرکیہ عقیدہ تو نہیں؟ کیا نبی اللہ یا ولی اللہ سے بعد از وفات ایسا کوئی خرق عادت واقعہ ظاہر ہوسکتاہے؟
(2) رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کی زندگی ( روضہ مبارک میں ) کے بارے میں علماء دیوبند کے عقائد کی وضاحت کریں ؟
(3) ایسے واقعات کے بارے میں علماء دیوبند اور بریلوی حضرات کے عقیدہ میں کیافرق ہے؟
(1)سید الرسل و خاتم الانبیاء، سیدنا ومولانا محمد ﷺ اپنی قبرِ مبارک میں حیات ہیں، اور آپ درود وسلام پڑھنے والوں کے درود و سلام کا جواب دیتے ہیں، یہ بات مسلم ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور جس طرح آپ ﷺ کی حیاتِ دنیوی میں خرق عادت کے طور پر چند امور بطورِ معجزہ ظاہر ہوئے ہیں، اور ان کا صدور مسلم عقیدہ ہے، اسی طرح آپ کی حیاتِ برزخیہ دنیویہ جسدیہ میں اگر اس طرح کے کچھ واقعات صادر ہوں تو یہ نہ عقلاً ممتنع ہے اور نہ ہی شرعاً، اس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے، نیز اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ اولیاء کی کرامات حق ہیں، لہذا اگر اللہ کے کسی ولی کے لیے خرقِ عادت کے طور پر روضہ اقدس سے سرورِ کائنات حضرت رسولِ مقبول محمد ﷺ کا دستِ مبارک باہر آئے، تو یہ ممکن ہے، بلکہ اس قسم کے ایک نہیں کئی واقعات موجود ہیں، جن کو اہلِ علم نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے، سرِ دست اس سلسلے میں سید احمد رفاعی رحمہ اللہ کا واقعہ مشہور ہے جو کہ مشہور صوفی بزرگ ہیں، ان کا واقعہ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (الحاوی للفتاوی میں نقل کیا ہے۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے ’’فضائل حج‘‘ اور ’’فضائل درود شریف‘‘ میں اس طرح کے کئی واقعات کئی کتابوں سے نقل کیے ہیں، لہذا اس سے معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ کے لیے اس قسم کے واقعات کا پیش آجانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے،اور نہ یہ شرکیہ عقائد ہیں۔
(2) رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کی زندگی ( روضہ مبارک میں ) کے بارے میں، ہمارےعلماء دیوبند کاعقیدہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کی روح مبارک کا تعلق وربط اپنے جسدعنصری کے ساتھ حیات دنیویہ کی طرح ہے، بلکہ اس سے بھی قوی تر ہے، فرق یہ ہے کہ دنیوی حیات کو ہم محسوس کرتے ہیں، اوربعدازوفات حیات کو ہم محسوس نہیں کرپاتے، لیکن نصوص وروایات سے جب معلوم ہوگیا ہے کہ وہ زندہ اور حیات ہیں، اگرچہ ہم محسوس نہیں کرتے ، لہٰذا ا س پر ایمان وعقیدہ ضروری اور واجب ہے۔
(3) ایسے واقعات کے بارے میں دیوبندی اور بریلوی عقائدمیں فرق یہ ہے کہ دیوبندی کہتے ہیں کہ کرامت ظاہرکرنے میں ولی کواختیارنہیں ہوتاکہ جب چاہے جیساچاہے ایسی کرامت ظاہرکرے،یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے ،اس میں ولی کوکوئی ختیارنہیں ہوتا،اس کے برعکس بریلوی حضرات کاعقیدہ ہےان کے نزدیک کرامت ظاہرکرناولی کے اختیارمیں ہوتاہے۔
فتح الباری میں ہے:
"وإذاثبت أنّھم أحیاء من حیث النقل، فإنّه یقوّیه من حیث النظر کون الشھداء بنصّ القرآن، والأنبیاء أفضل من الشھداء."
(کتاب الأنبیاء،باب قول اﷲ تعالیٰ:{ واذکر فی الکتٰب مریم…} ،ج 6، ص:488،ط: إدارات البحوث العلمیة)
الحاوی للفتاوی میں ہے۔
"وفي بعض المجاميع: حج سيدي أحمد الرفاعي فلما وقف تجاه الحجرة الشريفة أنشد:
في حالة البعد روحي كنت أرسلها … تقبل الأرض عني فهي نائبتي
وهذه نوبة الأشباح قد حضرت … فامدد يمينك كي تحظى بها شفتي
فخرجت اليد الشريفة من القبر الشريف فقبلها."
(الفتاوی الصوفیة ،ج:2، ص: 314، ط :دار الفكر)
فتاوی رشیدیہ میں ہے :
"سوال : کرامت اس کے اختیار میں ہے یا نہیں؟
جواب: اختیار میں نہیں ہے جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ان کی عزت بڑھانے کو ان کے ہاتھ سے ظاہر کر دیتا ہے ۔"
(فتاوی رشیدیہ :ص:181، ط :ادارہ اسلامیات لاہور )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612101435
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن