
کیا جنات سے کام لینا اسلام میں جائز ہے؟
جی ہاں! جائز کام ان سے لیا جاسکتا ہے۔ البتہ جنات کو عملیات کے ذریعہ مسخر کرنے اور تابع کرنے میں کلمات کفریہ یا اعمال کفریہ کا ارتکاب کرنا جائز نہیں، نیز ایسے الفاظ استعمال کرنا بھی جائز نہیں کہ جن کے معنی معلوم نہ ہوں۔
احکام القرآن للمفتی شفیع رحمہ اللہ میں ہے:
"الكلام في تسخير الجن بالعزائم و الأقسام و الأعمال، فذلك إن كان بالعزائم الشركية و الكلمات الكفرية أو بشئ من المعاصي، فظاهر أنه كفر أو حرام و معصية كبيرة و ألحق بها العلماء ما لايفهم معانيها من العزائم و الكلمات حذرا عن الوقوع في الكفر الشرك... فتسخير الجن إن كان بالعزائم الشركية أو غير مفهومة المعني لايجوز مطلقا، و إن كان بكتاب الله تعالي و أسمائه فإن كان دفعا للمضرة و إزالة لمكائد الجن و أذاه عن نفسه أو عن غيره جاز."
(سورة ص، ج: 3، ص: 514،513، ط: إدارة القرآن كراتشي)
فتاوی مفتی محمود میں ہے:
جنات کو بذریعہ عملیات تابع کرنا کیسا ہے۔۔۔ اور تابع کرنے والا اگر یہ نیت رکھتا ہو کہ اس سے اچھے کام لوں گا۔
جواب:
"اگر تابع کرنے والا اچھی نیت رکھتا ہے اور جائز امور کے لیے تابع کرتا ہے تو جائز ہے ۔۔۔ الخ"
(باب الحظر و الاباحۃ، ج: 10، ص: 442، ط: اشتیاق اے مشتاق پریس، لاہور)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100928
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن