بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا جنات سے کام لینا اسلام میں جائز ہے؟


سوال

کیا جنات سے کام لینا اسلام میں جائز ہے؟

جواب

جی ہاں! جائز کام ان سے  لیا جاسکتا ہے۔ البتہ جنات کو   عملیات کے ذریعہ مسخر کرنے اور تابع کرنے میں  کلمات کفریہ یا اعمال کفریہ کا ارتکاب کرنا جائز نہیں، نیز ایسے الفاظ استعمال کرنا بھی جائز نہیں کہ جن کے  معنی معلوم نہ ہوں۔

احکام القرآن للمفتی شفیع رحمہ اللہ میں ہے:

"الكلام في تسخير الجن بالعزائم و الأقسام و الأعمال، فذلك إن كان بالعزائم الشركية و الكلمات الكفرية أو بشئ من المعاصي، فظاهر أنه كفر أو حرام و معصية كبيرة و ألحق بها العلماء ما لايفهم معانيها من العزائم و الكلمات حذرا عن الوقوع في الكفر الشرك... فتسخير الجن إن كان بالعزائم الشركية أو غير مفهومة المعني لايجوز مطلقا، و إن كان بكتاب الله تعالي و أسمائه فإن كان دفعا للمضرة و إزالة لمكائد الجن و أذاه عن نفسه أو عن غيره جاز."

(سورة ص، ج: 3، ص: 514،513، ط: إدارة القرآن كراتشي)

فتاوی مفتی محمود میں ہے:

جنات کو بذریعہ  عملیات  تابع کرنا کیسا ہے۔۔۔  اور تابع کرنے والا اگر یہ  نیت رکھتا ہو کہ اس سے اچھے کام  لوں گا۔

جواب:

"اگر تابع کرنے والا اچھی نیت رکھتا ہے اور جائز امور کے لیے تابع کرتا ہے تو جائز ہے ۔۔۔ الخ"

(باب الحظر و الاباحۃ، ج: 10، ص: 442، ط: اشتیاق اے مشتاق پریس، لاہور)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100928

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں