بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا اسلامی عدالت میں قادیانی کی توبہ قبول ہے؟


سوال

قادیانیوں کے احکام کیا ہیں؟ یعنی کیا اسلامی عدالت میں ان کی توبہ قبول کی جائے گی یا نہیں؟ اور ان کے احکام میں داعی اور غیر داعی کے درمیان کوئی فرق کیا جائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ جمہور علمائے کرام کے نزدیک قادیانی فرقہ اپنے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے اور انبیائے کرام علیہم السلام کی توہین کرنے کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اور شرعاً مرتد اور زندیق ہے، قادیانیوں کا حکم عام کافروں سے زیادہ سخت ہے، اور  مرزائیوں سے خرید و فروخت، تجارت، لین دین، سلام و کلام، میل جول، کھانا پینا، شادی و غمی میں شرکت، جنازہ میں شرکت، تعزیت، عیادت، ان کے ساتھ تعاون یا ملازمت، یہ سب شریعتِ اسلامیہ میں سخت ممنوع اور حرام ہیں، البتہ اگر کوئی (خواہ قادیانی داعی یا غیر داعی ہو)مرزائیت سے سچی توبہ کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتمُ الرسل مانے، اور مرزا غلام احمد قادیانی سے بیزاری اور براءت کا اظہار کرے، تو شرعاً  اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور عدالت بھی ایسے شخص کی توبہ قبول کرسکتی ہے۔

تاہم یہ بات بھی واضح رہے کہ اگرچہ قادیانی مرتد اور زندیق ہیں، لیکن حدود و قصاص کا نفاذ کسی فرد کا کام نہیں، بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے؛ لہٰذا کسی فرد کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر سزا نافذ کرے اور عوام کی ذمہ داری یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ ہمارے معاشرے میں کوئی ایسا مجرم پایا جاتاہے تو شریعت اور قانون کے تقاضے پورے کرے، اور ایسے مجرم کے خلاف پر امن قانونی چارہ جوئی کرکے اسے کیفرِ کردار تک پہنچائے۔

الخراج لأبي يوسف میں ہے:

"قال أبو يوسف: وأيما ‌رجل ‌مسلم سب رسول الله صلى الله عليه وسلم أو كذبه أو عابه أو تنقصه؛ فقد كفر بالله وبانت منه زوجته؛ فإن تاب وإلا قتل. وكذلك المرأة؛ إلا أن أبا حنيفة قال: لا تقل المرأة وتجبر على الإسلام".

(‌‌فصل: "في حكم المرتد عن الإسلام" والزنادقة، ص:199، ط: المكتبة الأزهرية للتراث)

فتاوی شامی میں ہے:

"(الحد) لغة المنع. وشرعا (عقوبة مقدرة وجبت حقا لله تعالى) زجرا، فلا تجوز الشفاعة فيه بعد الوصول للحاكم، وليس مطهرا عندنا بل المطهر التوبة. وأجمعوا أنها لا تسقط الحد في الدنيا".

(قوله بعد الوصول للحاكم) وأما قبل الوصول إليه والثبوت عنده فتجوز الشفاعة عند الرافع له إلى الحاكم ليطلقه؛ لأن وجوب الحد قبل ذلك لم يثبت، فالوجوب لا يثبت بمجرد الفعل بل على الإمام عند الثبوت عنده كذا في الفتح. وظاهره جواز الشفاعة بعد الوصول للحاكم قبل الثبوت عنده، وبه صرح ط عن الحموي (قوله بل المطهر التوبة) فإذا حد ولم يتب يبقى عليه إثم المعصية. وذهب كثير من العلماء إلى أنه مطهر، وأوضح دليلنا في النهر.

مطلب التوبة تسقط الحد قبل ثبوته (قوله وأجمعوا إلخ) الظاهر أن المراد أنها لا تسقط الحد الثابت عند الحاكم بعد الرفع إليه، أما قبله فيسقط الحد بالتوبة حتى في قطاع الطريق سواء كان قبل جنايتهم على نفس أو عضو أو مال أو كان بعد شيء من ذلك كما سيأتي في بابه".

(كتاب الحدود، ج:4، ص:3، ط: سعيد)

وفیہ أیضاً:

"(ويؤدب الذمي ويعاقب على سبه دين الإسلام أو القرآن أو النبي) صلى الله عليه وسلم حاوي وغيره قال العيني: واختياري في السب أن يقتل. اهـ.

«(قوله ويؤدب الذمي ويعاقب إلخ) أطلقه فشمل تأديبه وعاقبه بالقتل، إذا اعتاده، وأعلن به كما يأتي، ويدل عليه ما قدمناه آنفا عن حافظ الدين النسفي، وتقدم في باب التعزير أنه يقتل المكابر بالظلم وقطاع الطريق والمكاس وجميع الظلمة وجميع الكبائر، وأنه أفتى الناصحي بقتل كل مؤذ. ورأيت في كتاب الصارم المسلول لشيخ الإسلام ابن تيمية الحنبلي ما نصه: وأما أبو حنيفة وأصحابه فقالوا: لا ينتقض العهد بالسب، ولا يقتل الذمي بذلك لكن يعزر على إظهار ذلك كما يعزر على إظهار المنكرات التي ليس لهم فعلها من إظهار أصواتهم بكتابهم ونحو ذلك وحكاه الطحاوي عن الثوري، ومن أصولهم يعني الحنفية أن ما لا قتل فيه عندهم مثل القتل بالمثقل، والجماع في غير القبل إذا تكرر، فللإمام أن يقتل فاعله، وكذلك له أن يزيد على الحد المقدر إذا رأى المصلحة في ذلك ويحملون ما جاء عن النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه من القتل في مثل هذه الجرائم، على أنه رأي المصلحة في ذلك ويسمونه القتل سياسة. وكان حاصله: أن له أن يعزر بالقتل في الجرائم التي تعظمت بالتكرار، وشرع القتل في جنسها؛ ولهذا أفتى أكثرهم بقتل من أكثر من سب النبي صلى الله عليه وسلم من أهل الذمة وإن أسلم بعد أخذه، وقالوا يقتل سياسة، وهذا متوجه على أصولهم. اهـ. فقد أفاد أنه يجوز عندنا قتله إذا تكرر منه ذلك وأظهره وقوله وإن أسلم بعد أخذه لم أر من صرح به عندنا لكنه نقله عن مذهبنا وهو ثبت فيقبل (قوله قال العيني إلخ) قال في البحر: لا أصل له في الرواية اهـ ورده الخير الرملي، بأنه لا يلزم من عدم النقض عدم القتل، وقد صرحوا قاطبة بأنه يعزر على ذلك، ويؤدب وهو يدل على جواز قتله زجرا لغيره إذ يجوز الترقي في التعزير إلى القتل، إذا عظم موجبه".

(كتاب الجهاد، ‌‌باب العشر والخراج والجزية، ج:4، ص:214/215، ط: سعيد)

اکفار الملحدین(مترجم) میں ہے:

مرزائیوں کا حکم

جو لوگ ان مرزائیوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ احتیاط کرنا چاہتے ہیں وہ صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ ان سے تو بہ کرالیں، اگر یہ مرزائیت سے توبہ کریں تو فبہاور نہ قطعا کافر ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں ان کے لئے اس سے زیادہ مراعات کی قطعاً گنجائش نہیں ، جیسا کہ کتاب میں آنے والے مباحث سے ہم نے بالا جماع ثابت کیا ہے۔

پھر یہ تو بہ کرانا بھی ہر کس وناکس کا کام نہیں ہے ، بلکہ صرف اسلامی حکومت کا حاکم ہی ان کے کفر و اسلام کا قطعی فیصلہ کرنے کے وقت ان سے تو بہ کر سکتا ہے تا کہ وہ ان کے کفر یا اسلام کا دو ٹوک فیصلہ کر سکے لیکن اسلامی حکومت اور مسلمان حاکم موجود نہ ہونے کی صورت میں ان کے جہنم رسید ہونے تک کفر کے سوا کچھ نہیں ، چاہے اسے اوڑھ لیں، چاہے بچھالیں۔

(ص:62، ط: مکتبہ عمرفاروق)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101141

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں