
کیا عمامہ استعمال کرنا مستقل سنت ہے؟ اور کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ عمامہ استعمال فرمایا ہے؟
عمامہ باندھنا لباس کی سنتوں میں سے ہے، اور یہ ”سننِ زوائد“ کی قبیل سے ہے، ”سننِ ہدی“ یا مستقل سنت نہیں ہے، یعنی عمامہ باندھنے کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبعی زندگی سے ہے، اور امر و نہی کا اس سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”زاد المعاد“ میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات ٹوپی پر عمامہ زیب تن فرماتے تھے، اور بعض اوقات صرف عمامہ پہنتے، اور بعض اوقات صرف ٹوپی۔ لہٰذا اگر کوئی سنت کی نیت سے مستقل عمامہ باندھے تو یہ نیت درست ہے، اور اسے سنت پر عمل کا اجر و ثواب ہوگا۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ اسے لازم نہ سمجھے اور عمامہ نہ باندھنے والوں کو سنت کے خلاف چلنے والا نہ سمجھے۔
زاد المعادمیں ہے:
"كانت له عمامة تسمى: السحاب كساها علياً، وكان يلبسها ويلبس تحتها القلنسوة، و كان يلبس القلنسوة بغير عمامة، ويلبس العمامة بغير قلنسوة."
(فصل في ملابسه صلى الله عليه وسلم، ص:45، ط:دار الکتب العلمیة بیروت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"والسنة نوعان: سنة الهدي، وتركها يوجب إساءة وكراهية كالجماعة والأذان والإقامة ونحوها. وسنة الزوائد، وتركها لا يوجب ذلك كسير النبي عليه الصلاة والسلام في لباسه وقيامه وقعوده."
(كتاب الطهارة، سنن الوضوء، ج:1، ص:103، ط:ایج ایم سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100015
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن