بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1448ھ 17 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

کیاہنگامی حالت میں بدعتی اورغیرمسلم کوخون دينالازم ہے؟


سوال

کیا مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہنگامی حالت میں اپنا خون دے، چاہے لینے والا شخص بدعتی ہو یا کافر؟

جواب

واضح رہے کہ  امن پسندغیر مسلم کے ساتھ تعاون، ہمدردی اور خیرخواہی شرعاً ممنوع نہیں، بلکہ شریعتِ مطہرہ نے مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک، ہمدردی اور خیرخواہی کی ترغیب دی ہے،حتی کہ نبی  کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض غیرمسلموں کی عیادت  بھی فرمائی ہے، خصوصاً جب وہ غیرمسلم  مظلوم ہو یا محتاجی کی حالت میں ہواس کی امداداوراس کےساتھ خیرخواہی کرناچاہیے،تاہم یہ خیرخواہی لازم نہیں ۔  

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کسی غیر مسلم ، یا بدعتی کوخون کی ضرورت پیش آئے، تو مسلمان ان کو خون دے سکتا ہے، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، تاہم، خون دینا شرعاً واجب یا لازم نہیں ہے، بلکہ جائز اور  اخلاقی جذبہ ہے۔

قرآن مجیدمیں ہے:

﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (8)﴾          

"ترجمہ:اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا (ف ٣) . اللہ تعالیٰ انصاف کا برتاؤ کرنے والوں سے محبت رکھتے ہیں ۔"

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"یجوز للعلیل شرب الدم والبول وأکل المیتة للتداوي إذا أخبرہ طبیب مسلم أن شفاء ہ فیه، ولم یجد من المباح ما یقوم مقامه."

( کتاب الکراھیة، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات، ج:5، ص:355، ط:دارالفكر)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100832

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں