
ہم ایک کمرے میں کرایہ پر رہتے تھے ،میرے تین بیٹے اور ایک بہنوئی تھا، میرے بیٹے کے پاس ایک شخص نے بطور امانت ایک لاکھ روپے رکھوائے تھے اور میرے بھی تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے تھے، یہ سب ایک صندوق میں تھے، صندوق کو تالا لگایا تھا اور کمرے کو بھی تالا لگایا تھا، ہم صبح کام پر گئے تھے ،جب شام کو واپس آئے تو کمرے اور صندوق دونوں کا تالا توڑا پایا اور صندوق سے سارے پیسے چوری ہو گئے تھے ،میں نے اس علاقہ کے ایک صاحب اقتدار شخص سے کیس کا مشورہ کیا تو اس نے کیسں نہ کرنے کا مشورہ دیا، اب وہ شخص جس کی امانت تھی ،وہ اپنے پیسے مانگ رہا ہے، آیا شریعت میں ہم پر اس کو یہ پیسے لوٹانا لازم ہے یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں اس شخص نے ایک لاکھ روپےبطورامانت سائل کے بیٹے کےپاس رکھوائےتھے اور سائل کے بھی تقریبا ڈیڑھ لاکھ روپے تھے اور سائل کے بیٹے نےان سب کو ایک ساتھ حفاظت سے رکھا تھا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی اور غفلت نہیں کی تھی، اس کے باوجود وہ پیسے چوری ہوگئے،اس لیےسائل کے بیٹے پرشرعاًان پیسوں کولوٹانالازم نہیں ہے۔
شرح المجلہ لسلیم رستم باز میں ہے:
"الوديعة أمانة في يد المودَع، فإذا هلكت بلا تعد منه و بدون صنعه و تقصيره في الحفظ لايضمن، ولكن إذا كان الإيداع بأجرة فهلكت أو ضاعت بسبب يمكن التحرز عنه لزم المستودع ضمانها".
( أحكام الوديعة، رقم المادة:777، ج:1، ص:342، ط:رشيديه)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101142
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن