بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب احادیث کو اہل سنت نے چھپایا ہے؟


سوال

ایک مکتب فکر کا یہ دعویٰ کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منسوب چارسو احادیث مبارکہ کو  اہل سنّت اکابرین نے صحاح ستہ میں محض بغض علی کرم اللہ وجہہ اور آل نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلّم کی دشمنی میں شامل نہیں کی۔ اس دعوے میں کتنی صداقت ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ دعویٰ  کہ”حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منسوب چارسو احادیث مبارکہ کو  اہل سنّت اکابرین نے صحاح ستہ میں محض بغض علی کرم اللہ وجہہ اور آل نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلّم کی دشمنی میں شامل نہیں کی“علمی اور تاریخی اعتبار سے بے بنیاد اور باطل ہے۔ 
اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مقام و مرتبہ نہایت اعلیٰ ہے۔آپ خلفائے راشدین میں شامل، عشرہ مبشرہ میں داخل، رسول اللہ ﷺ کے داماد  ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ  اور اہلِ بیت علیھم الرضوان کی محبت  ایمان کی علامت ہے، اور ان کی تنقیص یا ان سے بغض  گمراہی بلکہ نفاق کی علامت ہے۔
مزید برآں کہ ائمہ محدثین نے اپنی کتاب میں   حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور اہل بیت علیہم الرضوان کے فضائل ومناقب پر مستقل باب قائم کیے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری میں" باب مناقب علی بن ابی طالب"اور"باب: مناقب قرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم "صحیح مسلم میں "باب من ‌فضائل ‌علي بن أبي طالب، رضي الله عنه" اور"باب فضائل أهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم" سنن ترمذی میں"باب مناقب علي بن أبي طالب رضي الله عنه"اور"مناقب أهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم" اور امام نسائی رحمه الله  کی تو مستقل تصنیف "خصائص علیؓ" اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ  محدثین نے حضرت علی اور اہلِ بیت علیھم الرضوان کے مناقب کو اپنی کتابوں میں خصوصی اہتمام کے ساتھ محفوظ اور ذکر کیا ہے۔
لہٰذا یہ اعتراض کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی احادیث کو بغض کی بنیاد پر صحاحِ ستہ میں شامل نہیں کیا گیا، سراسر باطل، علمی دیانت کے خلاف اور علمِ حدیث سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔نیزاگر (نعوذ باللہ) یہ فرض کرلیا جائے کہ بغض علی و اہل بیت  روایات کو چھپانے کا سبب تھا، تو پھر سب سے پہلے انہی احادیث کو چھپایا جانا چاہیے تھا جو ان کے فضائل میں وارد ہوئی ہیں،کیونکہ وہ زیادہ نمایاں ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ   اہلِ سنّت نے ان کے فضائل زیادہ پھیلائے(بوجہ ان کے مخالفین کے زیادہ ہونےکے) اوروہ تمام روایات اہلِ سنّت کی کتبِ حدیث میں  محفوظ اور موجود ہیں۔

الابواب الاتراجم لصحیح البخاری  میں ہے:

 "قال أحمد وإسماعيل القاضي والنسائي وأبو علي النيسابوري: لم يرد في حق أحد من الصحابة بالأسانيد الجياد أكثر مما جاء في علي، وكأن السبب في ذلك أنه تأخر، ووقع الاختلاف في زمانه، وخروج من خرج عليه، فكان ذلك سببًا لانتشار مناقبه من كثرة من كان بينها من الصحابة ردًّا على من خالفه، فكان الناس طائفتين، لكن المبتدعة قليلة جدًا، ثم كان من أمر علي ما كان فنجمت طائفة أخرى حاربوه، ثم اشتد الخطب فتنقصوه واتخذوا لعنه على المنابر سُنَّة، ووافقهم الخوارج على بغضه، وزادوا حتى كفَّروه مضمومًا ذلك منهم إلى عثمان، فصار الناس في حق علي ثلاثة: أهل السُّنَّة، والمبتدعة من الخوارج، والمحاربين له من بني أمية وأتباعهم،فاحتاج أهل السُّنَّة إلى بثِّ فضائله، فكثر الناقل لذلك لكثرة من يخالف ذلك، وإلا فالذي في نفس الأمر أن لكل من الأربعة من الفضائل إذا حرر بميزان العدل لا يخرج عن قول أهل السُّنَّة والجماعة أصلًا."

(باب مناقب علي بن أبي طالب كرم الله وجهه، ج:4، ص:485، ط:دار البشائر الإسلامية للطباعة)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100570

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں