بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا حج کے عمل کو چھپانا اور حاجی سے دعا کروانا متصادم ہیں؟


سوال

 اکابر علماء کا قول ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ خاموشی سے حج پر جائے اور خاموشی سے واپس آئے۔ لیکن ایک حدیث بھی سننے میں آئی ہے،" حدیث میں ہے :کہ نبیﷺ نے فرمایا جب تو حاجی سے ملاقات کرے تو اسے سلام کر،اور  اس سے مصافحہ کر، اور اس سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کرنے کو کہہ، اس سے پہلے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو، کیونکہ وہ (حاجی) بخشا ہوا ہوتا ہے۔"۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خاموشی سے جائے اور واپس بھی خاموشی سے آجائے تو لوگوں کو اس کے حج سے واپسی کا علم کیسے ہوگا؟ اور اگر انہیں علم ہی نہ ہو تو وہ اس سے دعا کیسے کروائیں گے؟ کیا یہ دونوں باتیں (علماء کا قول اور حدیث) ایک دوسرے کے متصادم تو نہیں؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، اکابر کی بات کا مطلب یہ ہے کہ حج خالصتا اللہ کے لئے ہونا چاہئے ،اس میں ریاکاری اور شہرت سے بچنا چاہئے،یہ فقط اکابر ہی   کی بات  نہیں ہے،  بلکہ قرآن حدیث میں بھی    اپنےاعمال کو ریاکاری سے بچنے کی  تاکید کی گئی ہے ۔اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب قرب وجوار کے لوگوں کو معلوم ہوجائے تو وہ آکر حاجی سے دعا کرائیں  ، اور یہ  ضروری نہیں ہے کہ کہ حج کرنے والا اگر لوگوں کو  اپنے حج کا نہیں بتائے گا ،تو کسی کو بھی پتہ نہیں چلے گا، بلکہ متعلقین کو تو معلوم ہو جائے گا  وہ آکر دعا کرالیں گے ۔تو اکابر کی بات کا تعلق حج کرنے والے سے ہے، اور حدیث کا تعلق دوسروں سے ہے ،لہذا دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔
مسند احمد میں ہے :

"عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله -صلي الله عليه وسلم-:إذا ‌لقيتَ ‌الحاج ‌فسلمْ ‌عليه ‌وصافحْه، ‌ومُرْه ‌أن ‌يستغفر ‌لك، ‌قبل ‌أن ‌يدخل ‌بيته، فإنه مغفورٌ له".

(مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله عنه ،ج:5،/ص: 39ط:دار الحديث، القاهرة )

المعجم الکبیر لطبرانی میں ہے :

"عن شداد بن أوس، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌من ‌صلى ‌يرائي ‌فقد ‌أشرك، ‌ومن ‌صام ‌يرائي ‌فقد ‌أشرك، ومن تصدق يرائي فقد أشركِ،"

 (عبد الرحمن بن غنم الأشعري عن شداد بن أوس،ج:7،/ص: 281،ط:مكتبة ابن تيمية ،القاهرة)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144702101375

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں