
میں نے پسند کی شادی کی تھی ،شادی سے پہلے نشہ کرتاتھا،یہ بات میری بیوی کے علم میں تھی ،ہمارے تین بچے ہیں ،شادی کے بعد ہماری لڑائیاں ہوتی تھیں اورلڑائی میں میں اس پر ہاتھ بھی اٹھاتا تھا،اس بات کا ان کےذہن پر برااثر پڑااور ایک دفعہ ان کا حمل بھی ضائع ہوا،ان کی والدہ کا بھی انتقال ہوگیا ہے،ان باتوں کا بھی ان کے ذہن پر برا اثر پڑا،ان کی دو بہنیں بیرون ملک رہتی ہیں ،یہاں ان کا کوئی رشتہ دار نہیں ہے،گھر والوں نے بڑا سمجھایا ،لیکن لڑائی ان کا معمول بن چکا تھا،گالم گلوچ کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوتی تھی ،تو شادی کے چار سال بعد میں نے اپنی بیوی کو ”دوطلاقیں دی تھیں ان الفاظ کے ساتھ کہ میں آپ کو طلاق دیتا ہوں “اورعدت میں رجوع کرلیاتھااوروہ خود مطالبہ کرتی تھی ،ابھی ایک ہفتہ پہلے ایک بار پھر جھگڑاہوا ،جس میں اس نے مجھے بہت مارا اورگالم گلوچ کیااور اس بات پر اکسایا کہ اگر ہمت ہے تو طلاق دےدو مجھے غصہ آیا اور میں نے کہا کہ ”میں تجھے طلاق دیتا ہوں “یہ جملہ دوبار کہا اورپھر اس کے پانچ دس منٹ بعد دوبارہ یہ جملہ بولا کہ” میں تجھے طلاق دیتاہوں”اس بات کےگواہ میری بہن اور بہنوئی بھی ہیں اورجس وقت میں نے اس کو طلاق دی ہے اس وقت میری بیوی کو حیض آرہا تھا اور وہ اس بات پر بضد ہے کہ مجھے حیض آرہا تھا ،اس لیے اس میں طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
سوال یہ ہے کہ کیا حالت حیض میں طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ؟
واضح رہے کہ حالتِ حیض میں طلاق دینا مکروہِ تحریمی ہے،حیض کی حالت میں طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے حالتِ حیض میں طلاق دینے سے منع فرمایا ہے، تاہم اگر کسی نے حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو طلاق واقع ہوجائے گی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں مختلف مواقع پر ان الفاظ کے ساتھ دےد یں کہ ” میں تجھے طلاق دیتاہوں“ تو اس پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں،میاں بیوی کے درمیان نکاح ختم ہوچکا ہے، بیوی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، اب نہ تو رجوع کرنا جائز ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح کر کے ساتھ رہنا جائز ہے، بیوی عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
سائل کی مطلقہ بیوی کی عدت کا حکم یہ ہے کہ جس حیض میں طلاق دی ہے وہ حیض عدت میں شمار نہیں ہوگا،اس حیض کے بعد مزید تین حیض گزرنے سے مطلقہ کی عدت مکمل ہوگی ۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثًا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيًا."
(کتاب الطلاق، الطلاق البدعی، ج:1، ص:349، ط: رشيدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) في طهر واحد (لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه، أو) واحدة في (حيض موطوءة) لو قال: والبدعي ما خالفهما لكان أوجز وأفيد (وتجب رجعتها) على الأصح (فيه) أي في الحيض رفعاً للمعصية.
(قوله: وتجب رجعتها) أي الموطوءة المطلقة في الحيض (قوله: على الأصح) مقابله قول القدوري: إنها مستحبة ؛ لأن المعصية وقعت فتعذر ارتفاعها، ووجه الأصح قوله صلى الله عليه وسلم لعمر في حديث ابن عمر في الصحيحين: «مر ابنك فليراجعها»، حين طلّقها في حالة الحيض، فإنّه يشتمل على وجوبين: صريح وهو الوجوب على عمر أن يأمر، وضمني وهو ما يتعلق بابنه عند توجيه الصيغة إليه، فإن عمر نائب فيه عن النبي صلى الله عليه وسلم فهو كالمبلغ، وتعذر ارتفاع المعصية لا يصلح صارفاً للصيغة عن الوجوب لجواز إيجاب رفع أثرها وهو العدة وتطويلها ؛ إذ بقاء الشيء بقاء ما هو أثره من وجه فلا تترك الحقيقة، وتمامه في الفتح. (قوله: رفعاً للمعصية) بالراء، وهي أولى من نسخة الدال، ط أي لأن الدفع بالدال لما لم يقع والرفع بالراء للواقع والمعصية هنا وقعت، والمراد رفع أثرها وهو العدة وتطويلها كما علمت؛ لأن رفع الطلاق بعد وقوعه غير ممكن".
(كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ج:3، ص:232، ط : سعید)ْ
البنایہ میں ہے:
"(وإذا طلق الرجل امرأته في حالة الحيض وقع الطلاق) ش: ويأثم بإجماع الفقهاء... قال في " الأصل ": وإذا طلق الرجل امرأته وهي حائض فقد أخطأ السنة، والطلاق واقع عليها."
(كتاب الطلاق، ج: 5، ص: 293،292، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"إذا طلق امرأته في حالة الحيض كان عليها الاعتداد بثلاث حيض كوامل ولاتحتسب هذه الحيضة من العدة، كذا في الظهيرية".
(کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدة، ج:1، ص:527، ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101963
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن