
میری امّی اور میرے ابو مجھے گھر کے باہر چھپر (شاپر) میں گندگی رکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ جب میں گھر والوں، خاص طور پر امّی کو کہتا ہوں کہ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اور گھر کے باہر گندگی دیکھ کر برا لگتا ہے، تو وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا اپنا گھر ہے، ہمارے گھر کے باہر کی جگہ ہے، ہم رکھ سکتے ہیں،مفتی صاحب گھر میں جو چیزیں جمع ہو جاتی ہیں، جیسے پھلوں کے چھلکے، سبزیوں کے چھلکے وغیرہ ، ان کو اپنے گھر کے باہر رکھنا کیا گناہ ہے یا نہیں؟ اور اگر میں خود وہ گندگی باہر رکھوں تو کیا میں بھی گناہ گار ہوں گا یا نہیں؟ مفتی صاحب میں اس گندگی کو دیکھ کر بہت پریشان ہوتا ہوں۔
ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں کے سامنے والے حصہ کی صفائی کیا کرو، یہود کی مشابہت اختیار نہ کرو، کیونکہ وہ گھر کے سامنے والے حصے کی صفائی نہیں کرتے۔ مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ مسئولہ میں گھر کے باہر والے حصہ میں کچرے کی تھیلی رکھنے میں اگر لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو تب تو گناہ ہے،لیکن اگر ایک کنارہ پر رکھ دی جائے اور بعد میں کچراچننے والےاس تھیلی کو اٹھالیں توگنجائش ہے،تاہم بہتر یہ ہےکہ کچرہ ایسی جگہ پر گرایا جائے یا ڈال دیاجائے جو حکومت کی طرف سے کچرا پھینکنے کےلیے میونسپل والوں کی طرف سے مخصوص ہو۔
سنن الترمذی میں ہے:
"حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا أبو عامر العقدي، قال: حدثنا خالد بن إلياس، ويقال: ابن إياس عن صالح بن أبي حسان، قال: سمعت سعيد بن المسيب، يقول: «إن الله طيب يحب الطيب، نظيف» يحب النظافة، كريم يحب الكرم، جواد يحب الجود، فنظفوا - أراه قال: - أفنيتكم ولا تشبهوا باليهود. قال: فذكرت ذلك لمهاجر بن مسمار، فقال: حدثنيه عامر بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله، إلا أنه قال: نظفوا أفنيتكم."
(أبواب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في النظافة،ج:4، ص: 495، ط: دار الغرب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100823
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن