
کیا اس زمانے کی عورت فقیہہ اور متبحر فی المذہب بن سکتی ہے ؟
فقیہ بننے کے لیے اہل علم نے کڑی شرائط مقرر کیں ہیں ، ان شرائط وضوابط پر کوئی بھی شخص پورا اترے وہ فقیہ کہلاتا ہے ۔چناں چہ حقیقی فقیہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ نصوص کے معانی، اشارات ، دلالات ،اسرار ورموز، مقتضیات پر مکمل عبور رکھے، اس كے علاوہ وہ متقی پرییز گار خوف خدا کا پیکر ہو ، دنیا کی چیزوں سے بے رغبت ، ہر دم ہر آن آخرت کی طرف متوجہ ہو اور تزکیہ نفس سے آراستہ ہو تو ایسے شخص پر فقیہ کا حقیقی اطلاق ہوتا ہے ،البتہ وہ شخص جو ان اشیاء پر عبور تو نہیں رکھے مگر فقہ کے مسائل و جزئیات اور اس کے دلائل سے گہری وابستگی رکھتا ہو تو اس کو بھی مجازا فقیہ کہا جاتا ہے ، البتہ حقیقی فقیہ وہی ہے کہ جو تقوی و للہیت سے آراستہ، نصوص کے فہم پر بالاستیعاب عبور رکھے، فی زمانہ فہم نصوص پر بالاستیعاب عبور ر کھنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں، لہذا کوئی عورت اگر مسائل و جزئیات ، وفروع مذہب اور اس کے دلائل وعلل پر مکمل عبور رکھے تب ہی اسے فقیہہ کہا جاسکتا ہے۔
البحر الرائق میں ہے:
"وفي الحاوي القدسي اعلم أن معنى الفقه في اللغة الوقوف والاطلاع وفي الشريعة الوقوف الخاص، وهو الوقوف على معاني النصوص وإشاراتها ودلالاتها ومضمراتها ومقتضياتها والفقيه اسم للواقف عليها ويسمى حافظ مسائل الفقه الثابتة بها فقيها مجازا لحفظ ما ثبت بالفقه اهـ.
ثم قال ثم العلم أول ما يحصل للقلب لا يخلو عن نوع اضطراب لحكم الابتداء فإذا دامت الرؤية زال الاضطراب فصار معرفة لزيادة الصحبة ثم تتنوع هذه المعرفة نوعين الظاهر دون المعنى الباطن والباطن الذي هو الحكمة وبها يلتذ القلب إذا صار معقولا له فجرى منه مجرى الطبيعة فهذا هو الفقه؛ ولهذا قال أبو يوسف مرضت مرضا شديدا حتى نسيت كل شيء سوى الفقه، فإنه صار لي كالطبع اهـ.
وقال في موضع آخر الفقه قوة تصحيح المنقول وترجيح المعقول فالحاصل أن الفقه في الأصول علم الأحكام من دلائلها كما تقدم فليس الفقيه إلا المجتهد عندهم وإطلاقه على المقلد الحافظ للمسائل مجاز."
(مقدمة الکتاب ،ج:1،ص:7،ط:دار الکتاب الإسلامی)
وفیه أیضا:
"هذا كله معنى الفقه عند الأصوليين وأما معناه الحقيقي له عند أهل الحقيقة فما ذكره الحسن البصري كما نقله أصحاب الفتاوى في باب الطلاق ومنهم الولوالجي بقوله هل رأيت فقيها قط إنما الفقيه المعرض عن الدنيا الزاهد في الآخرة البصير بعيوب نفسه وأمامعناه عند الفقهاء فذكر صاحب الروض أنه لو وقف على الفقهاء فهو من حصل في علم الفقه شيئا وإن قل؛ أو المتفقهة المشتغل به اهـ."
(مقدمة الکتاب ،ج:1،ص:7،ط:دار الکتاب الإسلامی)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"قال في النهاية: فقه الرجل بالكسر إذا علم، وفقه بالضم إذا صار فقيها عالما وجعله العرب خاصا بعلم الشريعة وتخصيصا بعلم الفروع."
(کتاب العلم ،ج:1 ، ص:284، ط:دار الفکر - بیروت )
فقط واللہ تعالی اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102537
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن