بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1448ھ 17 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا فدیہ یا کفارہ کے طور پر خون دیا جاسکتا ہے


سوال

کیا فدیہ یا کفارے میں خون کا عطیہ شامل کیا جا سکتا ہے؟ یعنی کسی فدیے کے بدلے میں خون دینا کافی ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ فدیہ اور کفارہ ایک مالی عبادت ہے جو مخصوص شرائط کے ساتھ کسی مستحق کو ایسی چیز کی ملکیت دینے سے ادا ہوتی ہے جس سے وہ خود نفع حاصل کر سکے، جیسے کھانا، کپڑا یا نقد رقم وغیرہ۔

لہٰذاانسانی خون نہ مال ہے، نہ اس کو ملکیت میں دیا جا سکتا ہے؛ اس لیے فدیہ یا کفارے میں خون دینا کافی نہ ہوگا۔

صحیح البخاری میں ہے:

"حدثنا حجاج بن منهال: حدثنا شعبة قال: أخبرني عون بن أبي جحيفة قال: رأيت أبي اشترى حجاما فأمر بمحاجمه فكسرت، فسألته عن ذلك، قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌نهى ‌عن ‌ثمن ‌الدم ‌وثمن ‌الكلب، وكسب الأمة، ولعن الواشمة والمستوشمة، وآكل الربا وموكله، ولعن المصور."

(کتاب البیوع،باب: ثمن الكلب، ج:2، ص:780، ط:دار ابن كثير)

کشف الاسرار میں ہے:

"‌ومعنى ‌الفدية ‌تنقيص ‌المال ودفع حاجة الغير."

(باب بيان صفة حكم الأمر،القضاء نوعان إما بمثل معقول وإما بمثل غير معقول، ج:1، ص:151، ط:دار الكتاب الإسلامي)

التوقيف على مهمات التعاريف میں ہے:

"‌والكفارة: ‌ما ‌يغطي ‌الإثم،وقيل الكفارة لغة من الكفر الستر، وشرعا ما وجب على الجاني جبرا لما منه وقع، وزجرا عن مثله."

(الکلم، ص:283، ط:عالم الكتب، القاهرة - مصر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100835

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں