بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عید پر مردوں کو عید مبارک کہنا جائز ہے؟


سوال

کیا عید پر مردہ کو مبارک باد دے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عید کے موقع پر مبارک باد دینا دراصل ایک دعا ہے،اور یہ عمل فی نفسہ جائز بلکہ مستحب ہے، جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایک دوسرے کو یہ دعا دینامنقول ہے:"تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال" لہذا مسلمانوں کا آپس میں"  عید مبارک "اسی دعا کے مفہوم میں داخل ہے، تاہم اس کو ضروری اور لازم سمجھنا اور اس پر اصرار کرنا درست نہیں،لیکن عید کے دن خاص اہتمام کے ساتھ قبرستان جاکر مردوں کو" عیدمبارک " کہنا ، اس کا ثبوت نہ رسول اللہﷺ سے ملتاہے اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اور نہ ہی تابعین ؒ سے ،لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔

الاعتصام للشاطبی میں ہے:

"‌‌فالبدعة ‌إذن ‌عبارة ‌عن: "طريقة في الدين مخترعة، تضاهي الشرعية، يقصد بالسلوك عليها المبالغة في التعبد لله سبحانه".

(الباب الأول في تعريف البدع وبيان معناها وما اشتق منه لفظا،ج:1،ص:45،ط:دار ابن الجوزي للنشر والتوزيع)

وفيه أيضاً:

"‌ومنها: ‌التزام ‌الكيفيات ‌والهيئات المعينة،........ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته."

(الباب الأول في تعريف البدع وبيان معناها وما اشتق منه لفظا،ج:1،ص:51،ط:دار ابن الجوزي للنشر والتوزيع)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710100027

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں