بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا دورانِ نماز وضو ٹوٹنے کی صورت میں تکبیرِ اولیٰ کا ثواب ملے گا؟


سوال

میں تقریباً دس سال سے تکبیرِ اولی کے ساتھ نماز ادا کرنے کی پابندی کر رہا ہوں، آج فجر کی نماز میں پہلی رکعت میں سجدہ کی حالت میں میرا وضو ٹوٹ گیا، میں وضو کے لیے گیا، وضو کرنے کے بعد امام کے ساتھ تشہد میں شریک ہوا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ مجھے تکبیرِ اولی کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ نیز اس کی وجہ سے تکبیرِ اولی کا تسلسل تو نہیں ٹوٹا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ  سائل تکبیرِ اولی کے ساتھ جماعت میں شامل ہوا اور عذر پیش آنے کی بناء پر وضو کے لیے گیا اور پھر واپس جماعت میں شریک ہوا، تو سائل کو تکبیرِ اولی کا ثواب مل گیا، وہ تسلسل نہیں ٹوٹا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) اعلم أن (المدرك من صلاها كاملة مع الإمام، واللاحق من فاتته) الركعات (كلها أو بعضها) لكن (بعد اقتدائه) بعذر كغفلة ورحمة وسبق حدث وصلاة خوف ومقيم ائتم بمسافر، وكذا بلا عذر؛ بأن سبق إمامه في ركوع وسجود فإنه يقضي ركعة وحكمه كمؤتم فلا يأتي بقراءة ولا سهو ولا يتغير فرضه بنية إقامة، ويبدأ بقضاء ما فاته عكس المسبوق ثم يتابع إمامه إن أمكنه إدراكه وإلا تابعه، ثم صلى ما نام فيه بلا قراءة... و الأصل أن اللاحق يصلي على ترتيب صلاة الإمام، والمسبوق يقضي ما سبق به بعد فراغ الإمام. اهـ."

(كتاب الصلاة،باب الإمامة، ج:1، ص:594-596، ط:دار الفكر)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"لأن ‌اللاحق ‌في ‌حكم ‌المقتدي فيما يتم... والمسبوق يقضي كالمنفرد".

(كتاب الصلاة، باب سجود السهو، ج:1، ص:229، ط:دار المعرفة)

حاشیہ الطحاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"(لا) أي لا يسجد (اللاحق) وهو من أدرك أول صلاة الإمام وفاته باقيها بعذر كنوم وغفلة وسبق حدث وخوف وهو من الطائفة الأولى لأنه كالمدرك".

(كتاب الصلاة، باب سجود السهو، ص:465، ط:دار الفكر)

فقط و الله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711100721

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں