
میری شادی 2016ء میں ہوئی۔ میری بیوی کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ میرے تین بچے ہیں۔بعد ازاں میں نے دوسری شادی بھی کرلی۔
اب میری پہلی ساس کہہ رہی ہے کہ آپ کی دوسری بیوی میری بیٹی کی خدمت اور ذمہ داری سنبھالے گی۔ شرعی طور یہ مطالبہ درست ہے کہ نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کی پہلی ساس کا یہ مطالبہ کرنا کہ ”سائل کی دوسری بیوی اس کی بیٹی یعنی پہلی بیوی کی خدمت اور ذمہ داری سنبھالے گی۔“ درست نہیں ہے۔ دوسری بیوی پر شرعاً پہلی بیوی کی خدمت لازم نہیں ہے؛ کیونکہ بیوی ہونے کی حیثیت سے جو کچھ حقوق پہلی بیوی کو حاصل ہیں وہی سب حقوق دوسری بیوی کو بھی حاصل ہیں۔ شرعی طور پر اس معاملے میں پہلی بیوی کو دوسری بیوی پر کوئی فضیلت یا برتری حاصل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے ایک سے زائد بیویوں والے شخص کو تمام بیویوں کے درمیان عدل و برابری کا حکم دیا ہے۔ نان و نفقہ یا دیگر واجبی حقوق میں دوسری بیویوں کی نسبت کسی ایک بیوی کا زیادہ خیال رکھنے کو ظلم اور ناانصافی قرار دیا ہے۔
البتہ زیرِ نظر مسئلہ میں اگر دوسری بیوی خود اپنی مرضی سے ثواب کی نیت سے اور محض انسانی ہمدردی و تعاون کے جذبے کے تحت اپنی سوتن یعنی پہلی بیوی اور اس کے بچوں کی خدمت کرے تو وہ اجر و ثواب کی مستحق ہوگی؛ ورنہ اصولی طور پر اس پر اپنی سوتن یا اس کے بچوں کی خدمت لازم نہیں ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"فإن كان له أكثر من امرأة، فعليه العدل بينهن في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة، وهو التسوية بينهن في ذلك حتى لو كانت تحته امرأتان حرتان أو أمتان يجب عليه أن يعدل بينهما في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة. والأصل فيه قوله عز وجل: {فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدةً} [النساء: 3] عقيب قوله تعالى: {فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع} [النساء: 3] أي: إن خفتم أن لاتعدلوا في القسم والنفقة في نكاح المثنى، والثلاث، والرباع، فواحدة. ندب سبحانه وتعالى إلى نكاح الواحدة عند خوف ترك العدل في الزيادة."
(كتاب النكاح، فصل وجوب العدل بين النساء في حقوقهن، ج:2، ص: 332، ط:ایج ایم سعید)
الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:
"أما واجب الزوجة: فلا يجب عليها خدمة زوجها في الخبز والطحن والطبخ والغسل وغيرها من الخدمات، وعليه أن يأتيها بطعام مهيأ إن كانت ممن لا تخدم نفسها؛ لأن المعقود عليه من جهتها هو الاستمتاع فلا يلزمها ما سواه، لكن لا يجوز لمن تخدم نفسها وتقدر على الخدمة أخذ الأجرة على عمل البيت، لوجوبه عليها ديانة، حتى ولو كانت شريفة؛ لأنه عليه الصلاة والسلام قسم الأعمال بين علي وفاطمة رضي الله عنهما، فجعل أعمال الخارج على علي، والداخل على فاطمة مع أنها سيدة نساء العالمين."
(الزواج وآثاره، الفصل السابع: حقوق الزواج وواجباته، المبحث الثاني:حقوق الزوج، ج:9، ص:6850، ط:دار الفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101553
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن