بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1448ھ 30 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا دوسری بیوی کو وہی تحفہ دینا لازم ہے جو نکاحِ ثانی سے قبل پہلی بیوی کو دیا گیا تھا؟


سوال

ایک شخص نے آج سے تیس سال پہلے ایک خاتون سے شادی کی تھی ،مہر پندرہ ہزار روپے مقرر ہوا تھا،میاں بیوی کے بچے بھی پیدا ہوئے۔شادی کے بیس سال بعد شوہر نے بیوی کو ایک مکان تحفہ میں دیا،مکان کی قیمت اس وقت تقریباً دس لاکھ روپے تھی،اور اب اس مکان کی قیمت تقریباً پچاس لاکھ روپے ہے۔

اب دو سال قبل اس شخص نے دوسری شادی کی اور مہر چار لاکھ مقرر ہوا،اب یہ دوسری بیوی کہتی ہے کہ چونکہ آپ نے پہلی بیوی کو مکان تحفہ میں دیا ہے، اور شرعاً بیویوں کے درمیان برابری لازم ہے؛اس لئے آپ مجھے بھی مکان تحفہ میں دیں،جبکہ شوہر کا کہنا ہے کہ برابری تو نکاح کے بعد لازم ہے، اور میں نے پہلی بیوی کو جو مکان دیا ہے وہ تو دوسری شادی سے پہلے دیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا دوسری بیوی کو بھی تحفہ میں مکان دینا ضروری ہے؟

جواب

جس شخص کےنکاح میں ایک سے زائد بیویاں ہوں، اس پر بیویوں کے درمیان شرعاً برابری کرنا لازم ہے،البتہ دوسری شادی سے قبل پہلی بیوی کو جو چیز گفٹ میں دی گئی ہو ،اس جیسی چیز  دوسری،تیسری یا چوتھی بیوی کو دینا ضروری نہیں ہے۔لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل نے دوسری شادی سے قبل پہلی بیوی کو تحفہ میں جو مکان دیا ہے،دوسری بیوی کواس جیسا مکان دینا ضروری نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وقدمنا عن البدائع أن سبب وجوب القسم عقد النكاح ولهذا يأثم بتركه قبل الطلب وهذا يؤيد بحث الفتح."

(كتاب النكاح،باب القسم بين الزوجات،ج: 3،ص: 205،ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101472

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں