بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا دو طلاق کے بعد نکاح کرکے باہم ساتھ رہ سکتے ہیں؟


سوال

میری شادی 2000ء میں ہوئی تھی، آج سے دس، بارہ سال پہلے میں نے اپنی بیوی سے کہا "اگر تم میری اجازت کے بغیر اپنی امی کے گھر گئی تو طلاق ہوگی"، اس کے بعد وہ اپنے میکے گئی اور بعد میں  کئی مرتبہ جاتی رہی، لیکن پھر اس کے بعد ہم باہم ساتھ رہتے رہے، یعنی رجوع کرلیا تھا۔

آج سے تقریبا چھ، سات پہلے میری بیوی اپنے میکے گئی تھی، تو میں نے بیٹے کو فون پر کہا کہ ابھی گھر واپس آجاؤ، تو میرے بیٹے نے اپنی ماں سے پوچھا تو اس نے منع کردیاکہ میں نہیں آتی، اس پر میں نے کہا "اگر نہیں آئی تو طلاق دے دوں گا"، میرے بیٹے نے ماں سے کہا تو اس نے کہا کہ میں نہیں آتی،یہ تمام باتیں میں نےاپنے بیٹے سے فون پر بات کرتے ہوئے کہی تھیں، بیوی سے بات نہیں ہوئی تھی، لیکن اس کے بعد معمول کے مطابق پھر سے ہم ساتھ رہتے رہے۔

آج سے تقریبا چار سال قبل میں نے بیوی کے بد تمیزی کرنے پر اس کے منہ پر طلاق دے دی، طلاق کے الفاظ یہ تھے کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"، اس کے بعد سے ہم علیحدہ ہوگئے تھے، اور رجوع نہیں کیا۔

لہذا میرا سوال یہ ہے کہ ہم دوبارہ نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟

وضاحت:

1- آج سے دس، بارہ سال پہلے میں نے اپنی بیوی سے کہا "اگر تم میری اجازت کے بغیر اپنی امی کے گھر گئی تو طلاق ہوگی"، اس کے بعد میری اجازت کے بغیر اپنے میکے گئی، اور ایک ہفتے بعد واپس آگئی، پھر میں نے اس سے رجوع کرلیا تھا۔

2- میں نے جب یہ کہا تھا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"، اس کے بعد ہم الگ الگ گھر میں علیحدہ رہنے لگے تھے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے دس، بارہ سال قبل اپنی بیوی سے جو یہ جملہ کہا تھا کہ: "اگر تم میری اجازت کے بغیر اپنی امی کے گھر گئی تو طلاق ہوگی"، بعد ازاں جب بیوی سائل کی اجازت کے بغیر اپنے میکے گئی تو ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی۔ چوں کہ عدّت کے دوران شوہر کو رجوع کا اختیار حاصل ہوتا ہے، اس لیے وقوعِ طلاق کے ایک ہفتے بعد ہی سائل نے رجوع کرلیا تھا، لہذا سائل کا  نکاح بدستور  برقرار رہا، البتہ آئندہ کے لیے سائل کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ گیاتھا۔

اس کے بعد چھ، سات برس قبل سائل نے بیوی کے گھر نہ آنے  پر جب یہ جملہ  کہا کہ  "اگر نہیں آئی تو طلاق دے دوں گا"، تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ مذکورہ الفاظ مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی کے ہیں اور شرعا دھمکی کے ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی،لہذاسائل کا  نکاح بدستور قائم اور برقرار رہا۔ 

بعد ازاں  آج سے چار سال قبل جب سائل نے اپنی بیوی کو یہ جملہ کہا کہ"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"، تو اس سے سائل کی بیوی پر دوسری طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی،  چونکہ سائل نے عدّت کے اندر رجوع نہیں کیا، اس لیے عدّت پوری ہونے پر نکاح ختم ہوگیا۔

لہذا اگر اب سائل اور اس کی مطلقہ بیوی دوبارہ باہمی رضامندی کے ساتھ رہنا چاہیں تو نئے مہر اور دو گواہ کی موجودگی میں از سر نو نکاح کرکے باہم ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن نکاح کے بعد سائل کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہوگا۔

فتح القدیر میں ہے:

"وإذا أضافه إلى شرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق، وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال."

(كتاب الطلاق،‌‌ باب الأيمان في الطلاق، ج:4، ص:116، ط: دارالفكر)

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:

"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام۔"

(كتاب الطلاق، ج:1 ،ص:38، ط:دار المعرفة)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد."

(کتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100266

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں