
ہم گھر میں دو خواتین ہیں ،میں اور میری ساس ،اور ہماری ملکیت میں سونا الگ الگ 7.5تولے سے کم ہے، لیکن اگر ایک ساتھ جمع کریں تو یہ 7.5 تولے سے زیادہ ہے تو زکات الگ الگ ہوگی یا ایک ساتھ جمع کرکے جب کہ زکات دینے والے میرے شوہر اور ان کے بیٹے ہیں؟
واضح رہے کہ شرعاً زکات کا اعتبار ہر مالک کے اپنے نصاب سے ہوتا ہے، دوسروں کے مال کو ملا کر نصاب پورا نہیں کیا جاتا۔ اس لیے جو مرد یا عورت تنہا ساڑھے سات تولہ سونے کے مالک ہوں تو وہ شرعاً صاحبِ نصاب کہلاتے ہیں، اور ان پر سالانہ ڈھائی فیصد زکات ادا کرنا لازم ہوتا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ اور اس کی ساس میں سے ہر ایک الگ الگ ساڑھے سات تولہ سونے کی مالک نہیں ہے۔ اس لیے اگر ان دونوں کے پاس اپنا ذاتی کسی قسم کا مالِ تجارت، چاندی یا ضرورت سے زائد نقد رقم وغیرہ کچھ بھی موجود نہ ہو تو دونوں شرعاً صاحبِ نصاب نہیں ہیں، اور ان پر سالانہ ڈھائی فیصد زکات کی ادائیگی بھی لازم نہیں ہے۔ لیکن اگر سونے کے علاوہ سائلہ اور اس کی ساس دونوں کے پاس اپنا ذاتی کسی قسم کا مالِ تجارت، چاندی یا ضرورت سے زائد نقد رقم وغیرہ موجود ہو تو دونوں شرعاً صاحبِ نصاب ہیں، لہٰذا دونوں پر سالانہ قابلِ زکات اشیاء کی ڈھائی فیصد زکات کی ادائیگی لازم ہوگی۔مزید یہ کہ زکات کی فرضیت مالک نصاب سے متعلق ہے، ادائیگی کرنے والے سے نہیں، لہٰذا شوہر یا بیٹے کے ذمہ ہونے یا ان کے ذریعے ادائیگی کرنے سے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"فاما اذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا، فاذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال، لما روي في حديث عمرو بن حزم والذهب ما لم تبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه، فاذا بلغت قيمته مائتي درهم ففيه ربع العشر، وكان الدينار على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مقوما بعشرة دراهم."
( كتاب الزكاة، فصل: واما صفة نصاب الذهب، 18/2، ط: سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"واذا كان تقدير النصاب من اموال التجارة بقيمتها من الذهب والفضة وهو ان تبلغ قيمتها مقدار نصاب من الذهب والفضة، فلا بد من التقويم حتى يعرف مقدار النصاب، ثم بماذا تقوم؟ ذكر القدوري في شرحه مختصر الكرخي انه يقوم باولى القيمتين من الدراهم والدنانير حتى انها اذا بلغت بالتقويم بالدراهم نصابا ولم تبلغ بالدنانير قومت بما تبلغ به النصاب. وكذا روي عن ابي حنيفة في الامالي انه يقومها بانفع النقدين للفقراء. وعن ابي يوسف انه يقومها بما اشتراها به، فان اشتراها بالدراهم قومت بالدراهم، وان اشتراها بالدنانير قومت بالدنانير، وان اشتراها بغيرهما من العروض او لم يكن اشتراها بان كان وهب له فقبله ينوي به التجارة قومت بالنقد الغالب في ذلك الموضع. وعند محمد يقومها بالنقد الغالب على كل حال، وذكر في كتاب الزكاة انه يقومها يوم حال الحول ان شاء بالدراهم وان شاء بالدنانير."
( كتاب الزكاة، فصل: صفة الواجب في اموال التجارة، 21/2، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101763
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن