
اگر بیوی نے سردی کی وجہ سے شوہر کو اپنے قریب آنے سے منع کیاہو اور شوہر نے غصے میں صرف دل ہی دل میں یہ سوچ لیا کہ میں اس کے قریب نہیں آؤں گا، لیکن نہ زبان سے کہاہو، نہ مدت مقرر کی ہواور نہ دل میں قسم کھائی ہو۔تو کیا ایسی صورت میں شرعاً ایلاء ثابت ہوتا ہے؟ اور حکم کیا ہے؟
اب اسے یہ وسوسہ آ رہا ہے کہ کہیں اس سے ’’ایلاء‘‘ تو نہیں ہوگیا۔
صرف دل میں ”بیوی کے قریب نہیں جاؤں گا“سوچنے سے شرعا ایلاء منعقد نہیں ہوتا، ایلاء منعقد ہونے کے لیے زبان سے ایلاء کے الفاظ ادا کرنا ضروری ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں شوہر کے صرف دل میں یہ سوچنے سے کہ ”بیوی کے قریب نہیں جاؤں گا“ شرعا ایلاء منعقد نہیں ہوا۔
موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:
"والإيلاء في الاصطلاح - يعرفه الحنفية - أن يحلف الزوج بالله تعالى، أو بصفة من صفاته التي يحلف بها، ألا يقرب زوجته أربعة أشهر أو أكثر، أو أن يعلق على قربانها أمرا فيه مشقة على نفسه، وذلك كأن يقول الرجل لزوجته: والله لا أقربك أربعة أشهر، أو ستة، أو يقول: والله لا أقربك أبدا، أو مدة حياتي، أو والله لا أقربك ولا يذكر مدة، وهذه صورة الحلف بالله تعالى، أما صورة التعليق، فهو أن يقول: إن قربتك فلله علي صيام شهر، أو حج، أو إطعام عشرين مسكينا، ونحو ذلك مما يكون فيه مشقة على النفس، فإذا قال الزوج شيئا من هذا اعتبر قوله إيلاء. أما إذا امتنع الرجل من قربان زوجته بدون يمين، فإنه لا يكون إيلاء، ولو طالت مدة الامتناع حتى بلغت أربعة أشهر أو أكثر، بل يعتبر سوء معاشرة."
(حرف الألف، ج: 7، ص: 221، ط: دار السلاسل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100962
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن