بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

کیا بیوی سے لواطت کی وجہ سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟


سوال

وطی دبر سے نکاح کیا ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ ہم بستری کے اصل محل کو چھوڑ کر  دبر کے راستہ سے شہوت پوری کرنا از روئے شرع حرام ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو ملعون قرار دیا ہے، جیسا کہ سنن ابی داؤد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ملعون من أتى امرأته في دبرها. رواه أبو داود. و في صحیح الجامع، (رقم:٥٨٨٩)

سنن ابی داؤد کی دوسری روایت میں ایسے شخص کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت سے بری قرار دیا ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أتى كاهناً فصدقه بما يقول، أو أتى امرأته حائضاً، أوأتى امرأته في دبرها، فقد برئ مما أنزل الله على محمد صلى الله عليه وسلم. رواه أبو داود.

مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من أتى حائضاً، أو امرأةً في دبرها فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم".(مشکاة :٥٥١)

یعنی اس قبیح عمل کو حلال سمجھ کر کرنا کفر ہے، اور حرام سمجھ کر کرنا حلال طریقہ سے تسکینِ شہوت کی نعمت کی نا شکری اور کبیرہ گناہ ہے۔ 

جیسا کہ فیض القدیر میں ہے:

"قال المناوي في شرح هذا الحديث: المراد أن من فعل هذه المذكورات واستحلها فقد كفر، ومن لم يستحلها فهو كافرالنعمة على ما مر غير مرة، وليس المراد حقيقة الكفر". (فيض القدير)

جامع ترمذی سنن نسائی مسند احمد کی روایت میں ایسے شخص کے بارے میں ہے کہ اللہ رب العزت اس پر رحمت کی نگاہ نہیں فرماتا۔

"قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: لاينظر الله إلى رجل أتى رجلاً أو امرأةً في دبرها. رواه الترمذي والنسائي بإسناد صحيح وأحمد رحمة الله عليهم".

صحیح الجامع میں ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

بے شک اللہ حق بتلانے سے نہیں شرماتا، بے شک اللہ حق بتلانے سے نہیں شرماتا، عورتوں کے پاس پیچھے کے راستہ سے نہ آؤ.

"عن خزيمة بن ثابت - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إن الله لايستحيي من الحق، إن الله لايستحيي من الحق، إن الله لايستحيي من الحق، لاتأتوا النساء في أدبارهن\". (رقم: ٩٣٣)

الجامع لمعمر بن راشد (٢٠٩٥٣) میں ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو پیچھے کے راستہ سے اپنی بیوی سے تسکینِ شہوت کرتا ہو تو انہوں نے جواباً فرمایا کہ یہ تو کفر کے بارے میں مجھ سے سوال کرتا ہے؟

"عن طاوس قال: سئل ابن عباس - رضي الله عنهما - عن الذي يأتي امرأته في دبرها، فقال: هذا يسألني عن الكفر".

لہذا صورتِ مسئولہ میں پیچھے کے راستہ سے ہم بستری کرنا حرام ہے اور اللہ  کی رحمت سے دوری اور لعنت کے حق دار ہونے کا سبب ہے، اور حلال سمجھ کر کرنا کفر ہے، اگرچہ بیوی کی رضامندی ہی کیوں نہ ہو، لہذا تسکینِ شہوت کے حصول کے لیے حلال اور فطری راستہ اختیار کرنا سائل پر لازم ہے، تاہم اگر کسی سے غلطی میں ایسا قبیل ہوگیا ہو تو اس پر اسے صدق دل سے توبہ کرنا لازم ہوگا، البتہ نکاح نہیں ٹوٹے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200347

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں