
میں ایک شادی شدہ عورت ہوں، میرا ایک چار سال کا بیٹا ہے، اور ساس سسر ہیں، ہم ایک گھر میں رہتے ہیں، ساس سسر اور شوہر کے کھانے پینے کی اور بچے کی پرورش کی ذمہ داری میری ہے اور باقی کاموں میں کے لیے گھر میں ماسی کی سہولت میسر ہے۔
میرا شوہر روزانہ کی بنیاد پر ہمبستری کا مطالبہ کرتاہے، اور یہ مطالبہ کبھی کبھی دن میں دو دفعہ بھی ہو جاتاہے، جس کو میں پورا کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتی ہوں لیکن جب کبھی جسمائی تھکن یا کسی بیماری کی وجہ سے میں انکار کرتی ہوں تو میرے شوہر مجھ سے ناراض ہوجاتے ہیں اور بات چیت ترک کرتے ہیں اور مجھے حدیث سناتے ہیں کہ اگر ان کی خواہش پوری نہیں کروں گی تو فرشتہ رات بھر لعنت کریں گے، اور میں گناہ گار ہوں گی۔
اب سوال یہ ہے کہ: شوہر کو ہمبستری سے منع کرنے کی وجہ سے کیا میں گناہ گار ہوں گی؟
واضح ہو کہ بیوی پر ہر جائز کام میں شوہر کی اطاعت کرنا لازم ہے ، ان جائز کاموں میں سے ایک کام شوہر کا اپنی بیوی سے جائز طریقے کے مطابق ہم بستری کرنا ہے ، بیوی کے لیے شرعی عذر (ایام یا بیماری کے دوران، یا شوہر کا حدِ اعتدال سے زیادہ ہم بستر ہونا جس کی بیوی میں طاقت نہ ہو ، یا شوہر کی جانب سے تسکینِ شہوت کے لیےغیر فطری راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کرنا) کے بغیر ہم بستری سے شوہر کو روکنا شرعاً جائز نہیں۔ احادیث میں ایسی بیوی کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں ۔
نیز شوہر کو بھی چاہیے کہ بیوی کی صحت ،طبعیت، اعذار اور مزاج کا خیال رکھتے ہوئے مباشرت کرے، بیوی کی طبیعت متحمل نہ ہو تو اس کی رعایت رکھنی چاہیے۔
لہذ صورتِ مسئولہ میں جسمانی تھکاوٹ یا کسی بیماری کی وجہ سےسائلہ اگر ہمبستری کی متحمل نہ ہو تو انکار کرنے کی وجہ سے وہ گناہ گار نہیں ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے :
"وقد صرحوا عندنا بأن الزوجة إذا كانت صغيرة لا تطيق الوطء لا تسلم إلى الزوج حتى تطيقه. والصحيح أنه غير مقدر بالسن بل يفوض إلى القاضي بالنظر إليها من سمن أو هزال. وقدمنا عن التتارخانية أن البالغة إذا كانت لاتحتمل لايؤمر بدفعها إلى الزوج أيضا، فقوله لا تحتمل يشمل ما لو كان لضعفها أو هزالها أو لكبر آلته. وفي الأشباه من أحكام غيبوبة الحشفة فيما يحرم على الزوج وطء زوجته مع بقاء النكاح قال: وفيما إذا كانت لا تحتمله لصغر أو مرض أو سمنة. اهـ."
(کتاب النکاح ،ج:3،ص:204،سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144706101078
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن