
کیا بیوی شوہر کو کہہ سکتی ہے کہ آپ نماز پڑھ لو؟ میں نے کہیں سنا تھا کہ بیوی شوہر کو نماز ادا کرنے کا نہیں کہہ سکتی ہے، اور اگر کہہ دے تو وہ نماز مسجد میں نہیں گھر میں ادا کرے۔
بیوی کی ذمہ داری ہے کہ اگر شوہر نماز پڑھنے میں کوتاہی کرتا ہے تو اسے نرمی، حکمت ومصلحت سے ترغیب دیں اور وقت پر نماز پڑھنے پر اسے آمادہ کریں،
باقی سائل کی یہ بات کہ” بیوی شوہر کو نماز ادا کرنے کا نہیں کہہ سکتی ہے، اور اگر کہہ دے تو وہ نماز مسجد میں نہیں گھر میں ادا کرے“ از روئے شرع غلط ہے۔
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے:
"عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول كلكم راع........أن عبد الله بن عمر يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول كلكم راع وكلكم مسؤل عن رعيته الإمام راع ومسؤل عن رعيته والرجل راع في أهله وهو مسؤل عن رعيتهوالمرأة راعية في بيت زوجها ومسؤلة عن رعيتها والخادم راع في مال سيده ومسؤل عن رعيته قال وحسبت أن قال والرجل راع في مال أبيه ومسؤل عن رعيته وكلكم راع ومسؤل عن رعيته. "
........(كلكم راع) ، وهذه جملة إسمية، وإفراد الخبر بالنظر إلى لفظة: كل، وقد اشترك الإمام والرجل والمرأة والخادم في هذه التسمية، ولكن المعاني مختلفة: فرعاية الإمام إقامة الحدود والأحكام فيهم على سنن الشرع، ورعاية الرجل أهله سياسته لأمرهم وتوفية حقهم في النفقة والكسوة والعشرة،ورعاية المرأة حسن التدبير في بيت زوجها والنصح له والأمانة في ماله وفي نفسها."......
(کتاب الجمعة، باب الجمعة في القریٰ، ج:6، ص:189، ط:إحیاء التراث العربي)
تحفہ زوجین میں ہے:
”عورتیں دینی حقوق میں ایک کوتاہی یہ کرتی ہیں کہ مرد کو جہنم کی آگ سے بچانے کا اہتمام نہیں کرتیں، اس کی کچھ پرواہ نہیں کرتی کہ مرد ہمارے واسطے حلال و حرام میں مبتلا ہے، اور کمانے میں رشوت وغیرہ سے احتراز نہیں کرتا تو اس کو سمجھائیں، کہ تم حرام آمدنی مت لیا کرو، ہم حلال ہی میں اپنا گزر کر لیں گی، علي ھٰذا (اسی طرح) اگر مرد نماز نہ پڑھتا ہو تو اس کو بالکل نصیحت نہیں کرتیں، حالانکہ اپنی غرض کے لیے اس سے سب کچھ کرا لیتی ہیں، اگر عورت مرد کو دیندار بنانا چاہے تو اس کو کچھ مشکل نہیں، مگر اس کے لیے ضرورت اس کی ہے کہ پہلے تم دین دار بنو !نماز اور روزے کی پابندی کرو! پھر مرد کو نصیحت کرو، انشاءاللہ اثر ہوگا، اگر عورت ذرا بھی مضبوطی اور ہمت اختیار کرے تو مرد کو بہ مجبوری متقی بننا پڑے گا ، بہت سی مثالیں ایسی موجود ہیں کہ عورتوں نے مردوں پر زور دیا کہ اگر تم رشوت نہ چھوڑو گے، ( زکوۃ نہ دو گے،نماز نہ پڑھو گے) تو ہم تمہاری کمائی نہیں کھائیں پیئیں گی، ادھر مرد وعورت کا محبت کا تعلق، ادھر اس خلوص کی برکت اس مجموعہ کا اثر یہ ہوا کہ مردوں کو رشوت سے توبہ کرنا پڑی ۔“
(بیوی کے ذمے شوہر کے حقوق،ص:48، ط: البشری)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101321
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن