بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بیوی کے قرض کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے؟


سوال

میری اہلیہ گزشتہ تین چار سال سے مجھے بتائے بغیر محلے کی عورتوں سے قرض لے کر کھاتی رہی ہے، قرض کی رقم تقریباً 13 لاکھ ہے۔

پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ قرض کی رقم 13 لاکھ روپے میں بحیثیت شوہر ہی ادا کروں گا یا پھر اہلیہ کے بھائی اور والدہ سے مطالبہ کر سکتا ہوں ؟ جب کہ اہلیہ کے والد یعنی میرے سسر وفات پا چکے ہیں،  میں ایک ملازم ہوں، اور میرے لیے یہ ایک بہت بڑی رقم ہے۔ میں دوست احباب سے قرض لے کر یہ رقم ادا کر دوں تو پھر بھی مجھے اپنا قرض واپس لوٹانے میں تقریباً دو سال لگ جائیں گے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ بیوی آپ کی اجازت اور علم کے بغیر قرض لیتی رہی، اور آپ نے بھی اس قرض کی ادائیگی کی کوئی ذمہ داری قبول نہیں کی، اس لیے اصولاً اس قرض کی ادائیگی بیوی ہی کے ذمہ لازم ہے۔

لہٰذا بحیثیتِ شوہر آپ پر اس کی ادائیگی لازم نہیں،  البتہ اگر آپ اپنی خوشی اور رضامندی سے اس کی طرف سے یہ قرض ادا کرنا چاہیں تو یہ آپ کا احسان ہوگا، جس کی شرعاً اجازت ہے۔

سنن نسائی میں ہے:

"عن مسروق، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ألفينكم ترجعون بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض، ‌لا ‌يؤخذ ‌الرجل ‌بجريرة ‌أبيه ‌ولا ‌بجريرة ‌أخيه»."

(‌‌ كتاب تحريم الدم، تحريم القتل، ج: 7، ص: 127، رقم: 4128، ط: المكتبة التجارية الكبرى)

أحكام القرآن للجصاص میں ہے: 

"قوله تعالى: {ولا تكسب كل نفس إلا عليها ولا تزر وازرة وزر أخرى} [الأنعام: 164]... الآية إنما نفت أن يؤخذ الإنسان بذنب غيره."

(‌‌سورة النساء، ج: 2، ص: 281، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710101078

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں