
واضح رہے کہ اگر کسی عورت کے شوہر کا انتقال قمری مہینے کی ابتدا یعنی پہلی تاریخ کو ہوا ہو تو اس بیوہ کی عدت چاند کے مہینوں کے اعتبار سے چار ماہ دس دن ہوتی ہے، خواہ ان مہینوں میں سے کوئی مہینہ انتیس دن کا ہو یا تیس دن کا ہو،اور اگر شوہر کا انتقال قمری مہینے کے درمیان میں ہوا ہو تو ایک سو تیس دن شمار کر کے عدت گزارنا لازم ہوتا ہے،اور اسی کے پورا ہونے سے عدت ختم ہوجاتی ہے۔
لہذاجو بات عوام میں مشہور ہے کہ عدت پوری ہونے کے بعد عورت کسی دوسرے کے گھر میں کھانا کھاکر قبرستان جائے اور پھر واپس آئے تو اس کی عدت ختم ہوجاتی ہے،یہ بات بالکل بے اصل غلط اور شرعاً بے بنیاد ہے،عدت کے ختم ہونے کے لیے ایسی کوئی رسم شر عاًثابت نہیں ہے،اس رسم کو ترک کرنا ضروری ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"في المحيط: إذا اتفق عدة الطلاق والموت في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلية وإن نقصت عن العدد، وإن اتفق في وسط الشهر. فعند الإمام يعتبر بالأيام فتعتد في الطلاق بتسعين يوما، وفي الوفاة بمائة وثلاثين۔"
(کتاب الطلاق،باب العدة،ج:3،ص:509،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100364
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن