بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بیوہ عورت کی عدتِ وفات دوسرے کے گھر میں کھانا کھانے اور قبرستان جانے سے ختم ہو جاتی ہے؟


سوال

 ہمارے علاقے میں یہ بات مشہور ہے کہ اگر کسی عورت کا شوہر وفات پا جائے، اور اس کی وفات کے بعد عدت پوری ہونے پر وہ عورت کسی دوسرے کے گھر میں کھانا کھا کر قبرستان جائے اور پھر گھر واپس آجائے، تو اس کی عدت ختم ہو جاتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی عورت  کے شوہر کا انتقال قمری مہینے کی ابتدا یعنی پہلی تاریخ کو ہوا ہو تو اس بیوہ کی عدت چاند کے مہینوں کے اعتبار سے چار ماہ دس دن ہوتی ہے، خواہ ان مہینوں میں سے کوئی مہینہ انتیس دن کا ہو  یا تیس دن کا ہو،اور اگر شوہر کا انتقال قمری مہینے کے درمیان میں ہوا ہو تو ایک سو تیس دن شمار کر کے عدت گزارنا لازم ہوتا ہے،اور اسی کے پورا ہونے سے عدت ختم ہوجاتی ہے۔

لہذاجو بات عوام میں مشہور ہے کہ عدت پوری ہونے کے بعد عورت کسی دوسرے کے گھر میں کھانا کھاکر قبرستان جائے اور پھر واپس آئے تو اس کی عدت ختم ہوجاتی ہے،یہ بات بالکل بے اصل غلط اور شرعاً بے بنیاد  ہے،عدت کے ختم ہونے کے لیے ایسی کوئی رسم  شر عاًثابت نہیں ہے،اس رسم کو ترک کرنا ضروری ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"في المحيط: إذا اتفق عدة الطلاق والموت في غرة الشهر اعتبرت ‌الشهور بالأهلية وإن نقصت عن العدد، وإن اتفق في وسط الشهر. فعند الإمام يعتبر بالأيام فتعتد في الطلاق بتسعين يوما، وفي الوفاة بمائة وثلاثين۔"

(کتاب الطلاق،باب العدة،ج:3،ص:509،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100364

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں