
میری دو بہنیں ہیں۔ ان کی شادی کے وقت، جب والد صاحب حیات تھے، ہم نے ان کے لیے ایک مکان خرید کر دیا تھا، جس میں دونوں بہنیں اب تک اکٹھی رہتی رہی ہیں۔ اب دونوں کے بچے جوان ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے مکان تنگ پڑ رہا ہے اور دونوں بہنیں الگ الگ رہائش اختیار کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن موجودہ مکان فروخت کرنے کے بعد اتنی رقم حاصل نہیں ہو رہی کہ دونوں اپنے لیے الگ الگ مکان خرید سکیں۔
ان دونوں میں سے ایک بہن کے پاس تقریباً تین سے چار تولہ سونا ہے، اس کے علاوہ اس کے پاس نہ نقدی ہے اور نہ چاندی وغیرہ، اور نہ ہی ضرورت سے زائد سامان۔ یہ سونا فروخت کرنے کے باوجود بھی اتنی رقم نہیں بنتی کہ وہ اپنے لیے الگ مکان خرید سکے۔ دوسری بہن کے پاس تو بالکل بھی کوئی مال موجود نہیں ہے۔ دونوں کے شوہر ملازمت کرتے ہیں، مگر ان کی آمدنی سے بمشکل گھریلو اخراجات پورے ہوتے ہیں۔ دونوں کے شوہروں کے پاس بھی ماہانہ تنخواہ کے علاوہ کوئی مال نہیں ہے، اور بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ بوقتِ ضرورت ہم ماہانہ اخراجات میں بھی ان کی مالی مدد کرتے رہتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ میں اپنی زکاۃ کی رقم سے ان کی رہائش کے مسئلے میں مدد کر سکتا ہوں، نیز ان کے بچوں کی داخلہ فیس اور سالانہ تعلیمی اخراجات میں بھی زکاۃ کی رقم سے مدد کر سکتا ہوں، تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں اپنی زکاۃ کی رقم اپنی بہنوں یا ان کے شوہروں کو مالک بنا کر دے دوں، تاکہ وہ اس رقم سے اپنے لیے الگ الگ مکان خرید سکیں اور بچوں کے تعلیمی اخراجات ادا کر سکیں؟
واضح رہے کہ اپنے اصول (والدین، دادا، نانا وغیرہ) اور فروع (اولاد، ان کی نسل) کو اور اسی طرح بیوی کو زکاۃ دینا جائز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر رشتہ دار، جیسے بھائی، بہن، چاچا، پھوپھی اور ان کی اولاد، اگر مستحق زکاۃ ہوں، تو ان کو زکاۃ دینا جائز ہے، بلکہ یہ دوہرے ثواب کا باعث ہے؛ اس لیے کہ اس میں زکاۃ کی ادائیگی کے ساتھ صلہ رحمی بھی ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بیان واقعۃً درست ہے کہ صرف ایک بہن کے پاس تین چار تولہ سونا موجود ہے، باقی دونوں بہنوں اور بہنوئیوں کے پاس ضرورت سے زائد مال و سامان نہیں ہے، اور یہ سب سید یا ہاشمی خاندان سے بھی نہ ہوں، تو ایسی صورت میں سائل کے لیے اپنی بہنوں اور بہنوئیوں کو زکاۃ دینا جائز ہوگا۔
فتح القدیرمیں ہے:
"(قوله ولا يدفع المزكي زكاته إلخ) الأصل أن كل من انتسب إلى المزكي بالولاد أو انتسب هو له به لا يجوز صرفها له، فلا يجوز لأبيه وأجداده وجداته من قبل الأب والأم وإن علوا، ولا إلى أولاده وأولادهم وإن سفلوا......وسائر القرابات غير الولاد يجوز الدفع إليهم، وهو أولى لما فيه من الصلة مع الصدقة كالإخوة والأخوات والأعمام والعمات والأخوال والخالات."
(كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لايجوز، ج:2، ص: 269، ط:دار الفكر، بيروت)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"(منها الفقير) وهو من له أدنى شيء وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة فلا يخرجه عن الفقير ملك نصب كثيرة غير نامية إذا كانت مستغرقة بالحاجة كذا في فتح القدير .........ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي........والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأخوال والخالات ثم إلى أولادهم ثم إلى ذوي الأرحام ثم إلى الجيران ثم إلى أهل حرفته ثم إلى أهل مصره أو قريته كذا في السراج الوهاج."
(كتاب الزكاة، الباب السابع فى المصارف، ج:1، ص:187 و 189 و 190، ط: دار الفكر بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708101669
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن