بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیابرتن زیادہ دیر تک جھوٹے رکھنے سے بد دعا دیتے ہیں


سوال

ہم نے سنا ہے کہ برتنوں میں کھانے کے بعد ان کو جلدی دھونا چاہیے، ورنہ برتن بددعا دیتے ہیں کیا یہ بات صحیح ہے؟

استعمال کے بعد برتنوں کو ایسے ہی چھوڑے رکھنا ان کو نہ دھونا تو اس سے برتن بد دعا دیتے ہیں کیا یہ بات صحیح ہے یا غلط ؟

جواب

برتن  کے استعمال کے بعد اس کو بغیر دھوئے رکھنےسے برتن  کا بد دعا کرنا، اس  کے متعلق تو کوئی بات حدیث وغیرہ میں  نہیں ملتی، البتہ  برتن میں کھانا کھانے کے بعد برتن کو مکمل صاف کرنا چاہئے، اس میں کوئی چیز نہیں چھوڑنی چاہئے، اس کے متعلق احادیث موجود ہیں ۔

ایک حدیث مبارک  کا  مفہوم   ہے کہ جب برتن صاف کرلیا جاتاہے تو برتن اس شخص کے لیے استغفار کرتاہے۔

 ایک حدیث مبارک  کا مفہوم ہے کہ  جب کھانے  کا لقمہ نیچے گر جائے تو اسے اٹھا کر گندگی وغیرہ صاف کر کے کھا لیا جائے اور اس لقمے کو شیطان کے لیے نہ چھوڑا جائے ۔یہ معنی جس طرح گرے ہوئے لقمہ میں پایا جاتاہے اسی طرح پلیٹ وغیر میں بچے ہوئے کھانے میں بھی پایا جاتا ہے کہ اس کو مکمل صاف کرلینا چاہئے ،شیطان کے لیے نہیں چھوڑنا چاہئے۔

ایک حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ  جو کسی برتن میں کھائے اور اس کو اچھی طرح صاف کرے تو برتن اس کے لیے دعا کرتا ہے کہ اللہ تجھے آگ سے آزاد کرے جیسے تو نے مجھے شیطان سے آزاد کیا ۔

صحيح مسلم  میں ہے:

" عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا وقعت لقمة أحدكم فليأخذها، فليمط ما كان بها من أذى وليأكلها، ولا يدعها للشيطان، ولا يمسح يده بالمنديل حتى يلعق أصابعه، فإنه لا يدري في أي طعامه البركة."

(كتاب الأشربة،  باب استحباب لعق الأصابع والقصعة، وأكل اللقمة الساقطة بعد مسح ما يصيبها من أذى، وكراهة مسح اليد قبل لعقها، ج3، ص1606، دار إحياء التراث العربي)

سنن ترمذی میں ہے:

"1804 - حدثنا ‌نصر بن علي الجهضمي، قال: أخبرنا ‌أبو اليمان المعلى بن راشد قال: حدثتني جدتي ‌أم عاصم، وكانت أم ولد لسنان بن سلمة قالت: دخل علينا ‌نبيشة الخير ونحن نأكل في قصعة، فحدثنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من أكل في قصعة ثم لحسها، استغفرت له القصعة."

(‌‌أبواب الأطعمة، باب ما جاء في اللقمة تسقط، 3/ 397 ، ط: دار الغرب الإسلامي)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن نبيشة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من أكل في قصعة ثم لحسها تقول له القصعة: أعتقك الله من النار كما أعتقتني من الشيطان ". رواه رزين"

 (‌‌كتاب الأطعمة،الفصل الثالث،2/ 1223،ط:المكتب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144710100418

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں