بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بہو کی ماں سے یا داماد کی ماں سے نکاح جائز ہے؟ کیا ساس بہو کے باپ سے یا ساس داماد کے باپ سے نکاح کر سکتی ہے؟


سوال

کیا بہو کی ماں سے نکاح جائز ہے، اگر وہ بیوہ ہو؟ اسی طرح کیا داماد کی ماں سے نکاح جائز ہے؟ کیا ساس بہو کے باپ سے نکاح کر سکتی ہے؟ اور کیا ساس داماد کے باپ سے نکاح کر سکتی ہے؟

جواب

سسر کے لیے بہو کی والدہ یا داماد کی والدہ سے نکاح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کا کوئی اور رشتہ نہ ہو۔ اسی طرح ساس کے لیے بہو کے والد یا داماد کے والد سے نکاح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کا کوئی اور رشتہ نہ ہو۔

أحكام القرآن للجصاص میں ہے:

"قوله تعالى: {وأحل لكم ما وراء ذلكم} . روي عن عبيدة السلماني والسدي: "أحل لكم ما دون الخمس أن تبتغوا بأموالكم على وجه النكاح". وقال عطاء: "أحل لكم ما وراء ذوات المحارم من أقاربكم". وقال قتادة:{ما وراء ذلكم} : "ما ملكت أيمانكم". وقيل: "ما وراء ذوات المحارم وما وراء الزيادة على الأربع أن تبتغوا بأموالكم نكاحا أو ملك يمين" قال أبو بكر: هو عام فيما عدا المحرمات في الآية وفي سنة النبي صلى الله عليه وسلم."

(سورۃ آلِ عمران، ج:2، ص:175، ط: دارالکتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا بأس بأن يتزوج الرجل امرأة ويتزوج ابنه ابنتها أو أمها، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم الثاني المحرمات بالصهرية،1،ص277، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب. اهـ."

(كتاب النكاح، فصل في المحرمات،3،ص:31 ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101190

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں