
میری شادی 2008ء میں ہوئی۔ میں نے اپنے شوہر کے ساتھ نباہ کرنے کی پوری کوشش کی، لیکن وہ نہایت غافل انسان ہے، میں خود کام کرتی اور گھر کا خرچ چلاتی تھی، جبکہ وہ لوگوں سے قرضے لے کر شراب نوشی کرتا اور غلط عورتوں کے ساتھ تعلقات رکھتا تھا، ان حرکتوں سے میں بہت تنگ آ گئی تھی۔
ایک دفعہ جھگڑے کے بعد میں اپنے ماموں کے گھر چلی گئی، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد 30 نومبر 2024ء کوشوہر نے مجھے میسج کیا کہ:”تم آج رات تک بتا دو کہ تمہارا کیا فیصلہ ہے۔“ میں نے جواب دیا:”آپ نے کوئی کوشش نہیں کی تو میں کیسے راضی ہو جاؤں؟ میرا ابھی طلاق لینے کا ارادہ نہیں، جب میں آپ سے کہوں گی تب چھوڑ دینا مجھے۔“
اس پر شوہر کو غصہ آ گیا کہ تم مجھے بے وقوف بنا رہی ہو، مجھے ابھی ابھی تمہیں چھوڑنا ہے، مجھے کال کرنے لگے اور کہا کہ:” تمہارے فون پر کال کر کے ابھی تمہیں فارغ کر دوں گا“ میں نے جواب دیا:” آپ کو جس کو کہنا ہے، آپ ان کے نمبر پر کال کر کے بول دو، اسی دوران اس نے میسج کیا:”جاؤ، میں نے آپ کو آج ابھی اس وقت آزادی دے دی میری طرف سے، آج کے بعد میرے سے یا آپ کے کسی بھی رشتہ دار سے کوئی واسطہ نہیں، آج کے بعد آپ میری فیملی سے ختم اور میری فیملی آپ کی فیملی سے ختم۔ یہ اعلان میں آج اپنی ساری فیملی کو کر دوں گا۔ آپ کی خوشی کی خاطر اپنی زندگی سے آزاد کیا، جاؤ۔“
یہ میسج کر کے دوبارہ کال کرنے لگے، میں نے نہیں اٹھائی تو دوبارہ میسج بھیجا:”میں نے ابھی آپ کو چھوڑنا ہے، اب میں آپ کو کوئی ٹائم نہیں دے سکتا، آپ نے مجھے ٹائم نہیں دیا نا، اکیلا کر دیا نا، اب جب ہمارا تعلق ہی نہیں تو لحاظ کس بات کا؟ میرا دماغ گم گیا ہے، ابھی ابھی طلاق دوں گا ہر قیمت پر، آپ کے دل میں میرے لئے کچھ نہیں تو اب میرے دل میں میری بیوی نہیں۔ جان چھڑاؤ، دفع ہو جاؤ میری زندگی سے طلاق لے کر ابھی۔ آج رات میں سونے کا ہوں، نہ آپ کو سونے دوں گا۔ میں کال کرتا ہوں آپ کے امی یا ابو کو، اوکے، طلاق دیتا ہوں آپ کو ابھی۔“
یہ تمام میسجز مجھے موصول ہوئے، اس پر میں نے علماء کرام سے مشورہ کیا، تو بتایا گیا کہ اس سے طلاقِ بائن واقع ہو گئی ہے اور اب مجھے عدت گزارنی ہے۔ اب میری راہ نمائی فرمائیں کہ کیا ان میسجز کے متن پر باقاعدہ طلاق کا فتویٰ دیا جا سکتا ہے تاکہ میں آگے چل کر اپنی قانونی کارروائی کر سکوں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً سائلہ کے شوہر نے مذکورہ میسجز بھیجے تھے، تو پہلے میسج میں لکھے گئے الفاظ: ”جاؤ، میں نے آپ کو آج ابھی اس وقت آزادی دے دی میری طرف سے“کی وجہ سے سائلہ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہےاور نکاح ختم ہو چکا ہے۔ اس کے بعد دوسرے میسج میں لکھے گئے الفاظ:”طلاق دیتا ہوں آپ کو ابھی“ سے اگر سائلہ کے شوہر نے حال ہی میں یعنی اسی وقت طلاق دینے کی نیت کی تھی، تو ان الفاظ سے دوسری طلاق واقع ہو کر سائلہ پر مجموعی طور پر دو طلاقِ بائن واقع ہو جائیں گی، لیکن اگر ان الفاظ سے اسی وقت طلاق دینے کی نیت نہیں تھی، بلکہ کال پر طلاق دینے کی دھمکی دے رہا تھا جیسا کہ سیاقِ کلام سے مفہوم ہو رہا ہے، تو پھر اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، دوسری طلاق واقع ہونے کا مدار شوہر کی نیت پر ہے ۔
بہر صورت چونکہ 30 نومبر 2024ء سے اب تک اتنی مدت گزر چکی ہے،جس میں عام طور پر عدت کا وقت یعنی تین ماہواریاں، پورا ہو جاتا ہے،اس لئے اگر سائلہ کی عدت (یعنی پوری تین ماہواریاں، اور حمل کی صورت میں بچّے کی پیدائش تک) گزر چکی ہے، تو سائلہ اس کے نکاح سے آزاد ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ..... وكونه التحق بالصريح للعرف لا ينافي وقوع البائن به، فإن الصريح قد يقع به البائن كتطليقة شديدة ونحوه: كما أن بعض الكنايات قد يقع به الرجعي، مثل اعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة. والحاصل أنه لما تعورف به الطلاق صار معناه تحريم الزوجة، وتحريمها لا يكون إلا بالبائن، هذا غاية ما ظهر لي في هذا المقام."
(كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص:299، ط:سعيد)
وفیہ ایضاً:
"فالتعليل بغلبة العرف لوقوع الطلاق به (أي بلفظ الحرام) بلا نية، وأما كونه بائنا فلأنه مقتضى لفظ الحرام لأن الرجعي لا يحرم الزوجة ما دامت في العدة وإنما يصح وصفها بالحرام بالبائن، وهذا حاصل ما بسطناه في الكنايات فافهم."
(كتاب الطلاق، باب الإيلاء، مطلب في قوله أنت علي حرام، ج:3، ص:435، ط:سعيد)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك... أو أنت حرة...يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء."
(كتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج:1، ص:375، ط:دار الفكر، بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144703100968
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن