بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا”آزاد ہو، کہیں جانے کے لئے مجھ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے“ کہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟


سوال

دو ہفتے پہلے ہمارا پڑوسیوں کے ساتھ جھگڑا ہوا، اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے میری بیوی میری اجازت کے بغیر ان کے پاس چلی گئی، یہ بات مجھے بہت ناگوار گزری، اس لئے میں اپنی بیوی سے ناراض رہا کہ اس نے میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم کیوں رکھا، اسی ناراضگی کے سبب میں تقریباً بارہ دن تک اپنی بیوی سے بات چیت اور گفتگو نہیں کرتا رہا۔

ان دنوں کے دوران، جب وہ گھر پر موجود تھی ، اُس نے مجھے موبائل پر میسج کیا:”امی کے گھر چلی جاؤں؟“یہ میسج دیکھ کر مجھے غصہ آیا کہ میں ناراض ہوں اور اس کو امی کے گھر جانے کی فکر ہے، مزید یہ بھی سوچا کہ جب وہ پہلے ہی میری اجازت کے بغیر گھر سے نکل چکی ہے تو اب کس بات کی اجازت مانگ رہی ہے؟ چنانچہ میں نے جوابی میسج کیا:”آزاد ہو۔“ میرا مقصد یہ تھا کہ جب تم پہلے ہی میری اجازت کے بغیر گھر سے نکل چکی ہو تو پھر مجھ سے اجازت لینے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ شوہر کو شوہر نہیں سمجھا، حالانکہ دوسروں کے گھر تو شوہر کے ساتھ جانا چاہیے تھا، اس لئے اب تم آزاد ہو، جب اور جہاں جانا چاہو ، جا سکتی ہو، مجھ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

گزشتہ دن میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو اس نے مجھے بتایا کہ یہ الفاظ نکاح پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور معاملات خراب بھی ہو سکتے ہیں، اس لئے بہتر ہے کہ آپ دارالافتاء سے اس بارے میں معلوم کر لیں۔

نوٹ: مجھے اس بات کا بالکل علم نہیں تھا کہ ان الفاظ سے نکاح پر بھی کوئی اثر پڑ سکتا ہے، میں نے یہ صرف اس معنی میں کہا تھا کہ تمہیں مجھ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، جب ایک بار بغیر اجازت کے گھر سے باہر قدم اٹھا ہی لیا تو اب جب چاہو جا سکتی ہو، اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور جو الفاظ میں نے ذکر کئے ، بالکل یہی تھے: اس کا کہنا تھا: ”امی کے گھر چلی جاؤں؟“اور میرا کہنا تھا: ”آزاد ہو۔“

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بیان واقعتاً درست ہے کہ اس نے مذکورہ پس منظر میں اپنی بیوی سے ”آزاد ہو“ کہا تھا، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ جب بیوی پہلے ہی اس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جا چکی ہے تو اب کہیں جانے کے لئے اس سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے، تو ایسی صورت میں ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، نکاح بدستور برقرار ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو قال لها: أنت طالق ثم قال: أردت أنها طالق من وثاق لم يصدق في القضاء لما ذكرنا أن ظاهر هذا الكلام الطلاق عن قيد النكاح فلا يصدقه القاضي في صرف الكلام عن ظاهره... ويصدق فيما بينه وبين الله تعالى؛ لأنه نوى ما يحتمله كلامه في الجملة والله تعالى مطلع على قلبه..... ولو صرح فقال: أنت طالق من وثاق لم يقع في القضاء؛ لأن المرأة قد توصف بأنها طالق من وثاق وإن لم يكن مستعملا فإذا صرح به يحمل عليه.....ولو قال لامرأته: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت؟ فقال: طلقتها أو قال قلت: هي طالق فهي واحدة في القضاء؛ لأن كلامه انصرف إلى الإخبار بقرينة الاستخبار."

(كتاب الطلاق، فصل في النية في أحد نوعي الطلاق وهو الكناية، ج:3، ص:101، 102، ط:دار الكتب العلمية)

البحر الرائق میں ہے:

"وقيدنا بالإنشاء لأنه لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو ‌أقر ‌بالطلاق هازلا أو كاذبا كذا في الخانية من الإكراه ومراده بعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة لما في فتح القدير ولو ‌أقر ‌بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اهـ. وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة واستثنى في القنية من الوقوع قضاء ما إذا أشهد قبل ذلكلأن القاضي يتهمه في إرادته الكذب فإذا أشهد قبله زالت التهمة."

(كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 264، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101998

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں