بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 صفر 1448ھ 18 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کا دوسرے گھروں میں جاکر کام کاج کرنا


سوال

ہمارے ہاں عمومی دستور  یہ ہے  کہ عورتیں دوسرے گھروں میں جاکرتنخواہ پر کام(جیسے  برتن دھونا، گھر میں جھاڑو لگانا وغیرہ) کرتی  ہیں ،میں نے جب شادی کی  تو میں نے کہا تھا کہ میں اپنی بیوی سے یہ کام نہیں کراؤں گا ،لیکن اس دوران میں بیمار ہوگیا ،جس کی وجہ سے مجبوراً میری بیوی کو  یہ کام کرنا پڑا،اب میری طبیعت بہتر ہے مگر قرضہ زیادہ ہے اور علاج بھی جاری ہے ۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا میری بیوی کا یہ کام کرنا شرعاً جائز تھا ؟ا ب جبکہ میری طبیعت  بہتر ہوچکی ہے  ،لیکن مجھ پر قرضہ ہے ،کیا میری بیوی کے لیے یہ کام جاری رکھنا درست ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی کے لیے    پردہ کے پورے اہتمام کے ساتھ  دوسرے گھر میں  جاکرکام کرنا جائز ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

{ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} [الأحزاب: 33]

ترجمہ: اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکاۃ دیا کرو اور اللہ کا اور اس کے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانو ۔ (بیان القرآن)

جامع الترمذی میں ہے :

"حدثنا محمد بن بشار قال: حدثنا عمرو بن عاصم قال: حدثنا همام، عن قتادة، عن مورق، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان»: «هذا حديث حسن صحيح غريب»"

(ابواب الرضاع،باب ما جاء في كراهية الدخول على المغيبات،ج:3،ص:468،ط:مطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)

فتاوی شامی میں ہے:

"وحيث أبحنا لها الخروج فبشرط عدم الزينة في الكل، وتغيير الهيئة إلى ما لا يكون داعية إلى نظر الرجال واستمالتهم".

(باب المہر،قبیل مطلب في السفر بالزوجة،ج:3،ص:146،ط : سعید)

وفیہ ایضا:

"وحيث أبحنا لها الخروج فإنما يباح بشرط عدم الزينة وتغيير الهيئة إلى ما يكون داعية لنظر الرجال والاستمالة. قال الله تعالى - {ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى} [الأحزاب: 33]- اهـ "

(باب النفقة،قبیل مطلب في فرض النفقة لزوجة الغائب،ج:3،ص:604،ط:سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے :

''وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهنّ في عمل، أو خدمة۔ كذا في الخلاصة ... ونفقة الإناث واجبة مطلقاً على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهنّ مال، كذا في الخلاصة''.

( کتاب الطلاق ،الباب السابع،الفصل الرابع في نفقة الأولاد،ج:1،ص:562۔563،ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100912

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں