بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عورت رمضان کے آخری عشرے میں ایک دن کا اعتکاف کرسکتی ہے؟


سوال

اگر کوئی عورت رمضان کے آخری عشرے میں ایک دن کے اعتکاف کی نیت کرے تو کیا یہ اعتکاف سنت ہوگا یا نفل؟

جواب

مرد یا کوئی خاتون رمضان کے آخری عشرے میں ایک دن اعتکاف کرتا ہے تو یہ اعتکاف  نفلی ہوگا، مسنون اعتکاف شمار نہیں  ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وينقسم إلى واجب، وهو المنذور تنجيزا أو تعليقا، وإلى سنة مؤكدة، وهو في العشر الأخير من رمضان، وإلى مستحب، وهو ما سواهما هكذا في فتح القدير ... والمرأة تعتكف في مسجد بيتها إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل لا تخرج منه إلا لحاجة الإنسان كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي".

(كتاب الصوم، الباب السابع في الاعتكاف، ج:1، ص:211، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709101996

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں