بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا اولاد کی جنس (بیٹا یا بیٹی) کے تعین ڈاکٹر یا حکیم کرسکتا ہے؟


سوال

میں نے "قانونِ مفردِ اعضاء" کے ایک حکیم کی ویڈیو دیکھی، جس میں وہ بتا رہے تھے کہ ایسی دوا،اور غذا موجود ہے، جو اگر حاملہ عورت کو حمل کے دوسرے ماہ میں کھلا دی جائے تو بچہ بیٹا پیدا ہوگا، میرا سوال یہ ہے کہ کسی انسان کے اختیار میں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بیٹا پیدا ہوگا یا بیٹی، یہ تو صرف اللہ کا کام ہے، اس طرح تو سب لوگ بیٹے ہی پیدا کریں گے، حکیم صاحب نے کہا کہ بیٹا یا بیٹی دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے، مگر اس نے انسان کو اختیار دیا ہے، دوسری طرف ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ آئی وی ایف طریقۂ کار کے ذریعے لیب میں بچے کی جنس پہلے دن ہی طے ہو جاتی ہے، جبکہ حکیم کہتے ہیں کہ دوسرے ماہ میں جنس بنتی ہے، مفتی صاحب براہِ کرم بتا دیں کہ اس میں صحیح عقیدہ کیا رکھنا چاہیے، حکیم سچ کہتے ہیں یا ڈاکٹر، تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو دارالاسباب بنایا ہے،یعنی دنیا میں ہرچیز کے حصول کو کسی نہ کسی سبب سے متعلق کیا ہے، پس اولاد کے حصول کا ظاہری سبب میاں بیوی کے پانی کا اختلاط ہے، ازروئے حدیث مرد کا مادہ منویہ عورت کے پانی (بیضہ) پر جب غالب ہوتا ہے،تو لڑکے کی پیدائش ہوتی ہے، اور عورت کا بیضہ اگر غالب رہتا ہے، تو لڑکی کی پیدائش نصیب ہوتی ہے، یعنی لڑکا یا لڑکی کی پیدائش کا ظاہری سبب جرثومہ کا غلبہ ہے، تاہم بچہ کا مقدر ہونا، یا نہ ہونا خالص اللہ کی حکمت سے متعلق ہے۔

حکماء یا جدید طب مختلف دواؤں کے ذریعہ جرثومہ کو قوی کرنے کی تدبیر کرتے ہیں، جس کی بنا پر حمل ٹہرنے کی صورت میں بچہ یا بچی کی پیدائش کا قوی امکان ہوتا ہے، لہٰذا دونوں اقوال میں تعارض نہیں ، حکیم اپنے تجربات کی بنیاد پر دوماہ کی بات کرتے ہیں، تو وہ بھی درست ہوسکتی ہے، میڈیکل سائنس اگر اپنی تجربات کی بنیاد پہلے دن کی بات کرتی ہےتو یہ بھی ممکن ہے۔

البتہ ایسی ادویات کو سبب کے درجہ میں استعمال کرنا اگر چہ جائز ہے، تاہم دوا کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ مطلوبہ جنس والا بچہ دوا کی وجہ سے ہوا ہے شرکیہ عقیدہ ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"(لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (49) أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ ( الشورى: 50) 

تفسیر بیضاوی میں ہے:

"يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور. أو يزوجهم ذكرانا وإناثا ويجعل من يشاء عقيما بدل من يخلق بدل البعض، والمعنى يجعل أحوال العباد في الأولاد مختلفة على مقتضى المشيئة فيهب لبعض إما صنفا واحدا من ذكر أو أنثى أو الصنفين جميعا ويعقم آخرين، ولعل تقديم الإناث لأنها أكثر لتكثير النسل، أو لأن مساق الآية للدلالة على أن الواقع ما يتعلق به مشيئة الله لا مشيئة الإنسان والإناث كذلك."

(سورة الشورى، ج:5، ص:84، ط:دار إحياء التراث العربي)

تفسیرروح المعاني میں ہے:

"وناسب هذا المساق أن يدل في البيان من أول الأمر على أنه تعالى فعل لمحض مشيئته سبحانه لا مدخل لمشيئة العبد فيه)."

(سورة الشورى، ج:13، ص:53، ط: دارالکتب  العلمية)

صحيح مسلم میں ہے:

حدثني أبو أسماء الرحبي أن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثه قال: « كنت قائما عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجاء حبر من أحبار اليهود، فقال: السلام عليك يا محمد، فدفعته دفعة كاد يصرع منها، فقال: لم تدفعني؟ فقلت: ألا تقول يا رسول الله؟ فقال اليهودي: إنما ندعوه باسمه الذي سماه به أهله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن اسمي محمد الذي سماني به أهلي، فقال اليهودي: جئت أسألك، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: أينفعك شيء إن حدثتك؟ قال: أسمع بأذني، فنكت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعود معه، فقال: سل، فقال اليهودي: أين يكون الناس يوم تبدل الأرض غير الأرض والسماوات؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هم في الظلمة دون الجسر، قال: فمن أول الناس إجازة؟ قال: فقراء المهاجرين، قال اليهودي: فما تحفتهم حين يدخلون الجنة؟ قال: زيادة كبد النون، قال: فما غذاؤهم على إثرها؟ قال: ينحر لهم ثور الجنة الذي كان يأكل من أطرافها، قال: فما شرابهم عليه؟ قال: من عين فيها تسمى سلسبيلا، قال: صدقت، قال: وجئت أسألك عن شيء لا يعلمه أحد من أهل الأرض إلا نبي أو رجل أو رجلان، قال: ينفعك إن حدثتك؟ قال: أسمع بأذني، قال:جئت أسألك عن الولد، قال: ماء الرجل أبيض وماء المرأة أصفر،فإذا اجتمعا فعلا ‌مني ‌الرجل ‌مني ‌المرأة أذكرا بإذن الله، وإذا علا مني المرأة مني الرجل آنثا بإذن الله، قال اليهودي: لقد صدقت، وإنك لنبي، ثم انصرف فذهب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقد سألني هذا عن الذي سألني عنه، وما لي علم بشيء منه حتى أتاني الله به ."

(‌‌كتاب الحيض،‌‌باب بيان صفة مني الرجل والمرأة وأن الولد مخلوق من مائهما، ج:1، ص:173، ط:دار الطباعة العامرة - تركيا)

موسوعہ فقہ القلوب میں ہے:

"قال الله تعالى: {وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا (66) وَإِذًا لَآتَيْنَاهُمْ مِنْ لَدُنَّا أَجْرًا عَظِيمًا (67) وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (68)} [النساء: 66 - 68].

وقال تعالى: {أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (74)} [المائدة: 74].

العارف بالله من يعظم ربه أمام الناس ليعظموه، ويكبره أمامهم ليكبروه، فإذا عظموه عظموا كلامه، وعظموا أوامره، فأطاعوه وتجنبوا معاصيه.

وكذلك يحبب الله لخلقه بذكر آلائه وإنعامه وإحسانه، وصفات كماله.....وليس المراد ترك أسباب الكسب، فإن ‌الدنيا ‌دار ‌الأسباب الدنيوية والأخروية، وإنما المراد التقلل منها، والأخذ منها بقدر الحاجة، وإنفاق ما سوى ذلك في مرضاة الله."

(‌‌الباب الثالث عشر،فقه التخلص من المعاصي، ج:4، ص:3039، ط:بيت الأفكار الدولية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101250

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں