
میرا سوال اولاد کے جیب خرچ سے متعلق ہے۔ ایک مفتی صاحب سے کسی نے سوال کیا کہ ”بھائیوں کو جیب خرچ زیادہ ملتی ہے اور بہنوں کو کم۔“ تو انہوں نے فرمایا کہ ”یہ غلط ہے، سب کو برابر ملنی چاہیے۔“
اب میرا سوال یہ ہے کہ جیب خرچ میں برابری عملی طور پر ممکن نہیں ہوتی۔ عموماً گھر میں بھائی چوں کہ عمر میں بڑے ہوتے ہیں، ان کا باہر آنا جانا زیادہ ہوتا ہے، اور وہ دوستوں کے درمیان شرمندگی سے بچنے کے لیے تھوڑا زیادہ جیب خرچ لیتے ہیں، تو کیا یہ فرق جائز ہے؟
اسی طرح عمر کے لحاظ سے بھی جیب خرچ دی جاتی ہے، وقت و زمانے کے اعتبار سے بھی فرق ہو سکتا ہے، اور قابلیت، تعلیم، نیز عرف کے مطابق بھی فرق روا رکھا جاتا ہے، جیسے لڑکیوں کو جہیز دینا۔
اسی طرح اکثر والدین چھوٹے بچے (بھائی یا بہن) سے زیادہ محبت کرتے ہیں اور ان کے لیے چاکلیٹ، کھلونے یا جیولری کا کوئی سامان لے آتے ہیں۔ تو کیا اس قسم کے معاملات میں بھی تمام اولاد کے درمیان مکمل برابری ضروری ہے؟
نابالغ اور بالغ اولاد، یا لڑکا اور لڑکی کے جیب خرچ میں فرق، نیز شادی شدہ اور غیر شادی شدہ اولاد کے درمیان فرق، جیسا کہ عملاً ہوتا ہے، اور جو اولاد گھر سے باہر رہتی ہے، بالخصوص لڑکے۔ جب کہ لڑکیاں اکثر گھر میں ہوتی ہیں، تو کیا ان تمام لحاظ سے جیب خرچ میں فرق کرنا شرعاً جائز ہے؟
شریعتِ مطہرہ میں اولاد کے درمیان عدل و مساوات کا حکم ہے کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو عطیہ و بخشش کے طور پر کوئی قابلِ قدر قیمتی چیز دی جائے، تو عدل کا تقاضا ہے کہ دیگر اولاد کو بھی اس جیسی یا اس کے برابر کوئی چیز دی جائے، تا کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
باقی اولاد کے جیب خرچ کے متعلق اصول یہ ہے کہ یہ ہر ایک کی ضرورت، عمر، حالات اور ذمّہ داریوں کے مطابق دیا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری نہیں کہ تمام بچوں کو برابر جیب خرچ دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ چھوٹے بچوں کی ضروریات بڑے بچوں سے مختلف ہوتی ہیں، لڑکیوں کی ضروریات لڑکوں سے الگ ہوتی ہیں۔
پس جیب خرچ میں مساوات کا مطلب یہ نہیں کہ سب کو یکساں رقم دی جائے، بلکہ ہر ایک کو اس کی ضرورت اور حالات کے مطابق دینا ہی عینِ عدل و انصاف ہے، اور یہی شریعت کا مطلوب ہے۔
البتہ اگر کسی ایک بیٹا یا بیٹی کو تحفہ یا عطیہ کے طور پر کوئی قابلِ قدر قیمتی چیز دی جائے، جیسے سونے یا چاندی کے زیورات،گاڑی یا جائیداد وغیرہ، تو ایسی چیزوں میں تمام اولاد، خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے، لڑکے ہوں یا لڑکیاں، سب کے درمیان برابری کرنا ضروری ہے۔
اسی طرح جب لڑکیوں کی شادی کے موقع پر جہیز دیا جائے، یا لڑکوں کی شادی کے موقع پر انہیں تحائف دیے جائیں، تو والدین کو چاہیے کہ تمام اولاد کے ساتھ حتی الامکان برابری اور انصاف کا معاملہ کریں۔ ہر ایک کو وقت، حالات اور ضروریات کے مطابق ممکنہ حد تک برابر حق دیا جائے، تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور دلوں میں کدورت نہ پیدا ہو۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى."
(كتاب الوقف، مطلب في المصادقة على النظر، ج:4، ص:444، ط:ايج ايم سعيد)
کشاف القناع عن متن الاقناع میں ہے:
"(ويجب على الأب و) على (الأم، و) على (غيرهما) من سائر الأقارب (التعديل بين من يرث بقرابة، من ولد وغيره) كأب، وأم، وأخ، وابنه، وعم وابنه (في عطيتهم) لحديث جابر..... فأمَر بالعدل بينهم، وسَمَّى تخصيص أحدهم دون الباقين جَورًا، والجَور حرام؛ فدلَّ على أن أمره بالعدل للوجوب. وقِيس على الأولاد باقي الأقارب بجامع القرابة، وخرج منه الزوجات والموالي، فلا يجب التعديل بينهم في الهبة. و (لا) يجب التعديل بينهم (في شيء تافه) لأنه يُسامح به، فلا يحصُل التأثر. والتعديل الواجب أن يعطيهم (بقَدْرِ إرثهم منه) اقتداء بقسمة الله تعالى، وقياسًا لحالة الحياة على حال الموت.
"فائدة": نصَّ أحمد في رواية صالح وعبد الله وحنبل في من له أولاد، زوَّج بعض بناته، فجهزها وأعطاها، قال: يعطي جميع ولده مثل ما أعطاها. وعن جعفر بن محمد: سمعت أبا عبد الله يسأل عن رجل له ولد، يزوّج الكبير وينفق عليه ويعطيه، قال: ينبغي له أن يعطيهم كلهم مثل ما أعطاه، أو يمنحهم مثل ذلك..... (إلا في نفقة وكسوة، فتجب الكفاية) دون التعديل."
(باب الهبة والعطية، فصل في التعديل بين الورثة في الهبة، ج:10، ص:143، ط:وزارة العدل في المملكة العربية السعودية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100867
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن