بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ناموں کے سلسلہ میں اہل علم سے رابطہ کرنا ، والد کے نام پر بیٹے کا نام رکھنا


سوال

بچوں کے نام رکھے جاتے ہیں تو کیا ضروری ہے کے اس میں کسی عالم سے پہلے رابطہ کیا جائے کہ میں اپنے بچے کا فلاں نام رکھنا چاہتا ہوں یہ اس کےلئے صحیح رہے گا یا نہیں؟ مثال کے طور پر میرے والد صاحب کا نام عمر ہے اور وہ الحمدللہ حیات ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے بچے کا نام عمر رکھوں تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟

جواب

شریعت میں اچھے نام رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے ، لہذا ناموں کے سلسلہ میں اہل علم سے معانی دریافت کرنے کے لیے رابطہ کرلینا بہتر ہے ۔

اگرآپ کے والد کا نام عمر ہے اورآپ اپنے بچے کا نام عمر رکھنا چاہتے ہیں تو  اس میں کوئی حرج نہیں ہے،"عمر  " جلیل القدر صحابی، خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ کا نام ہے، یہ نام رکھنا درست اور باعثِ برکت ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسمائكم. رواه أحمد وأبو داود."

"حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو قیامت کے دن تمہارے اور تمہارے باپ کے نام سے پکارا جائے گا، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھو۔ (یعنی والدین اولاد کے نام اچھے رکھیں)۔ رواہ احمد و ابوادؤد۔"

(كتاب الآداب، باب الأسامي،الفصل الثاني،رقم الحديث:4768،  الفصل الثانی،ج:2،  ص: 408۔ ط: قدیمی)

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل میں ہے:

"حدثنا عبد الله قثنا صالح بن عبد الله الترمذي قثنا حماد بن زيد، عن عاصم بن أبي النجود، عن زر بن حبيش، عن أبي جحيفة قال: سمعت عليا يقول: ألا أخبركم بخير هذه الأمة بعد نبيها؟ أبو بكر، ثم قال: ألا أخبركم بخير هذه الأمة بعد أبي بكر؟ عمر."

‌‌(سئل عن فضائل أبي بكر الصديق رحمة الله عليه ورضوانه، ج:1، ص:76، ط:مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101165

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں