
کیا شرعی حدود میں رہتے ہوئے عملیات کرنے سے نسبتِ باطنی سلب ہوجاتی ہے؟ کیا تصوف اور شرعی عملیات کے درمیان کوئی تضاد یا بد ترین امتزاج ہے؟
شرعی حدود میں رہتے ہوئے اور شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عملیات کرنے سے نسبتِ باطنی سلب نہیں ہوتی، بشرطیکہ نیت درست ہو اور اعمال شریعت و سنت کے مطابق ہوں۔ البتہ عملیات کو مستقل معمول بنانا، اور اس میں منہمک ہوجانا، یا اُسے ذریعۂ معاش بنا لینا پسندیدہ عمل نہیں ہے۔
نیز تصوف اور شرعی عملیات کے درمیان کوئی تضاد نہیں، بشرطیکہ دونوں کا مدار اتباعِ شریعت اور طلبِ رضائے الٰہی پر ہو۔
البتہ اگر عملیات میں غیر شرعی تصرفات، دنیا طلبی، یا بدعات شامل ہو جائیں، تو ایسا عمل نہ صرف تصوف کے روحانی مقام کے مخالف اور اس سے متصادم ہے، بلکہ ایسے عملیات سے نسبتِ باطنی کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اور بسا اوقات اس کی وجہ سےروحانیت ضرور متاثر ہوتی ہےجسے نسبت کے سلب سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال رقاه الراقي رقيا ورقية إذا عوذه ونفث في عوذته قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اهـ."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس، ج:6، ص:363، ط:ايج ايم سعيد)
ملفوظاتِ حکیم الامت میں ہے:
”عملیات میں مشغول ہونے سے نسبت باطنی سلب ہو جاتی ہے۔
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت! عامل بھی صاحبِ نسبت ہو سکتا ہے؟ فرمایا کہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی بہت بڑے شیخ ہیں۔ ایک ثقہ راوی بیان کرتے تھے کہ حضرت مولانا کے ایک مرید تھے ان کا یہ خیال تھا کہ مولانا عامل ہیں، عملیات سے لوگوں کو ہدایت کے لیے تسخیر کرتے ہیں۔ مولانا کو ان کے اس خیال کی اطلاع ہوگئی۔ فرمایا! نعوذ بالله، استغفر الله، توبہ توبہ، ارے معلوم بھی ہے عملیات میں مشغول ہونے سے نسبتِ باطنی سلب ہو جاتی ہے۔ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ عملیات اصل میں ایک قسم کے تصرفات ہیں، جو تضمن ہیں دعوے کو اور ایسا تصرف عبدیت کے منافی ہے۔“
(ملفوظاتِ حکیم الامت، ج:8، ص:333، ط:ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ ملتان)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101725
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن