بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا اجارے پر لی ہوئی زمین مزارعت پر دینا جائزہے/مزارعت کے جواز کی شرائط


سوال

زید اور بکر کے لیے ایک معاہدہ بنوائے،کہ زید نے ایک مالک زمین سے زمین اجارہ پر لی ہے ،زید بکر کو ساتھ ملا کر اسی زمین کے اوپر فصل لگانا چاہتا ہے،زید کی ذمہ داری یہ ہے ،زمین فراہم کرنا اور ساتھ ساتھ زمین میں جسمانی محنت کرنافصل کی تیاری میں، جبکہ بکر تمام اخراجات مثلا بیج، فرٹیلائزر، دوائی ٹریکٹر وغیرہ فراہم کرے گا ،اور ساتھ ساتھ جسمانی محنت بھی کرے گا فصل اگانے میں، فقہ حنفی کے مطابق جائز لائحہ عمل مرتب فرمائیے ،پیداوار نفع نقصان کی تقسیم کی جائز صورتیں بیان فرمائیے ،تاکہ دونوں آگے چل کرجائز طریقے سے کام کر سکیں !

جواب

واضح رہے کہ کوئی زمین اجارے پر لےکر آگے مزارعت پر دینا جائز ہے،بشرط یہ کہ اجارہ اور مزارعت کے جواز کی شرائط کو ملحوظ رکھا گیا ہو، لہذا صورت مسئولہ میں زید کا زمین اجارے پر لے کر بکر کو مزارعت پر دينا اگر چہ فی نفسہ جائز ہےلیکن اس معاملے میں جو شرط عائدکی گئی ہےکہ زید زمین دینے کے ساتھ جسمانی محنت بھی کرے گا شرط فاسد ہے، اس کی وجہ سے مزارعت کا مذکورہ معاملہ بھی فاسد ہے،باقی مزارعت کے جواز کی شرائط مندرجہ ذیل لنک میں ملاحظہ کریں اور اس میں درج ذیل شرائط کو ملحوظ رکھ کر معاہدہ طے کریں۔

مزارعت کے معاملے میں ایک کی طرف سے زمین اور دوسرے کی طرف سے عمل سمیت تمام اخراجات ہونے کا حکم

فتاوی شامی میں ہے :

 "(قوله وبشرط التخلية. إلخ) وهي أن يقول صاحب الأرض للعامل سلمت إليك الأرض، فكل ما يمنع التخلية كاشتراط عمل صاحب الأرض مع العامل يمنع الجواز."

(کتاب المزارعة، ج : 6، ص : 276، ط: دارالكتب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے :

" وكذا) صحت (لو كان الأرض والبذر لزيد والبقر والعمل للآخر) أو الأرض له والباقي للآخر (أو العمل له والباقي للآخر) فهذه الثلاثة جائزة وفي الثانية يكون رب البذر مستأجرا للأرض بأجر معلوم من الخارج، فتجوز كاستئجارها بدراهم في الذمة."

(کتاب المزارعة، ج : 6، ص : 278، ط: دار الفکر بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے : 

"فأحدها أن تكون الأرض من أحدهما والبذر والبقر والعمل من الآخر وشرطا لصاحب الأرض شيئا معلوما من الخارج جاز لأن صاحب البذر يكون مستأجرا الأرض بشيء معلوم من الخارج."

(کتاب المزارعة،الباب الثاني في بيان أنواع المزارعة،ج : 5 ، ص : 238 ، ط : دارالفکربیروت)

فيه أيضا:

 "ولو استأجر أرضا ثم دفعها إليه الآجر مزارعة إن كان البذر من قبل رب الأرض لا يجوز لأن ذلك نقض للإجارة في ظاهر الرواية، وإن كان البذر من قبل المستأجر جاز لأن الآجر في الفصل الأول يصير مستأجرا وفي الفصل الثاني يصير أجيرا. كذا في الظهيرية."

(كتاب الإجارة، الباب السابع في إجارة المستأجر، ج: 4، ص: 426، ط: دارالفكربيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100271

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں