بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف میں نہانے کا حکم


سوال

کیا اعتکاف کے دوران نہانا یا غسل کرنا جائز ہے، یا یہ درست نہیں؟

جواب

اگر معتکف پر غسلِ جنابت واجب ہو جائے تو مسجد سے باہر جا کر غسل کرنا ضروری ہے، لیکن محض گرمی یا جمعہ کے غسل کے لیے باہر جانا جائز نہیں، ایسا کرنے سے اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔

البتہ اگر گرمی کی شدت سے شدید ضرورت ہو تو مسجد کے اندر کسی بڑے برتن میں اس احتیاط کے ساتھ غسل کیا جا سکتا ہے کہ استعمال شدہ پانی اور چھینٹے مسجد میں نہ گریں اور اس برتن میں پیشاب وغیرہ کوئی نجاست بھی نہ گرے۔

اسی طرح گیلا تولیہ بدن پر مل کر بھی ٹھنڈک حاصل کی جا سکتی ہے,مزید یہ کہ پیشاب کے لیے باہر جاتے وقت، ضرورت ہو تو بیت الخلا میں مختصر وقت میں( جتنی دیر میں وضو ہوتا ہے اس سے بھی کم وقت میں )بدن پر پانی ڈال  سکتا ہے، مگر اسے بھی عادت نہ بنائے، صرف شدید ضرورت میں اجازت ہے۔

الدر مع الرد میں ہے:

"(وحرم عليه) أي على المعتكف اعتكافا واجبا أما النفل فله الخروج لأنه منه لا مبطل كما مر (الخروج إلا لحاجة الإنسان) طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الاغتسال في المسجد كذا في النهر.

(قوله ولا يمكنه إلخ) فلو أمكنه من غير أن يتلوث المسجد فلا بأس به بدائع أي بأن كان فيه بركة ماء أو موضع معد للطهارة أو اغتسل في إناء بحيث لا يصيب المسجد الماء المستعمل، قال في البدائع: فإن كان بحيث يتلوث بالماء المستعمل يمنع منه لأن تنظيف المسجد واجب."

(كتاب الصوم، باب الاعتكاف، ج: 2، ص: 445، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709100427

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں